مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِي ، سَعِيدٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَمَّارٍ ، أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ ، وَأَبُو قَتَادَةَ ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قال: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَمَّارٍ، قال:" حَضَرَتْ جَنَازَةُ صَبِيٍّ وَامْرَأَةٍ فَقُدِّمَ الصَّبِيُّ مِمَّا يَلِي الْقَوْمَ وَوُضِعَتِ الْمَرْأَةُ وَرَاءَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِمَا، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو قَتَادَةَ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، فَسَأَلْتُهُمْ عَنْ ذَلِكَ فَقَالُوا: السُّنَّةُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمار رضی الله عنہ کہتے ہیں ایک بچہ اور ایک عورت کا جنازہ آیا، تو بچہ لوگوں سے متصل رکھا گیا، اور عورت اس کے پیچھے (قبلہ کی طرف) رکھی گئی، پھر ان دونوں کی نماز جنازہ پڑھی گئی، لوگوں میں ابو سعید خدری، ابن عباس، ابوقتادہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم (بھی) تھے، تو میں نے ان (لوگوں) سے اس کے متعلق سوال کیا، تو سبھوں نے کہا: یہی سنت (نبی کا طریقہ) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1979]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الجنائز 56 (3193)، (تحفة الأشراف: 4261) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح