شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ ، يَحْيَى ، هِشَامٍ ، أَبِي ، زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، قالت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ غُسْلٌ إِذَا هِيَ احْتَلَمَتْ؟ قَالَ:" نَعَمْ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ"، فَضَحِكَتْ أُمُّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ: أَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَفِيمَ يُشْبِهُهَا الْوَلَدُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ حق بات (بیان کرنے) سے نہیں شرماتا ہے (اسی لیے میں ایک مسئلہ دریافت کرنا چاہتی ہوں)، عورت کو احتلام ہو جائے تو کیا اس پر غسل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، جب منی دیکھ لے“، ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا (یہ سن کر) ہنس پڑیں، اور کہنے لگیں: کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”پھر لڑکا کس چیز کی وجہ سے اس کے مشابہ (ہم شکل) ہوتا ہے؟“۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 197]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/العلم50 (130)، الغسل 22 (282)، الأنبیاء 1 (3328)، الأدب 67 (6091)، وباب 79 (6121)، صحیح مسلم/الحیض 7 (313)، سنن الترمذی/الطھارة 90 (122)، سنن ابن ماجہ/فیہ 107 (600)، (تحفة الأشراف: 18264)، موطا امام مالک/فیہ 21 (84)، مسند احمد 6/ 292، 302، 306 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح