عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، زَائِدَةَ ، إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبُو الْوَلِيدِ ، زَائِدَةُ ، الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ الْفَزَارِيِّ ، حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ، عَلِيٍّ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ زَائِدَةَ، ح وأَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ فَتَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ، وَإِذَا رَأَيْتَ فَضْخَ الْمَاءِ فَاغْتَسِلْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے کثرت سے مذی آتی تھی، تو میں نے ۱؎، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب مذی دیکھو تو وضو کر لو، اور اپنا ذکر دھو لو، اور جب پانی (منی) کو کودتے دیکھو، تو غسل کرو“ ۲؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 194]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 10079) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی مقداد یا عمار کے واسطہ سے پوچھا، جیسا کہ حدیث نمبر: ۱۵۲، ۱۵۷ میں گزر چکا ہے۔ ۲؎: منی کا ذکر افادئہ مزید کے لیے ہے ورنہ جواب مذی کے ذکر ہی پر پورا ہو چکا تھا۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح