بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 1924 — باب: کافر اور مشرک کے جنازے کے لیے نہ کھڑے ہونے کی رخصت کا بیان۔
کتب سنن نسائی کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل باب: کافر اور مشرک کے جنازے کے لیے نہ کھڑے ہونے کی رخصت کا بیان۔ حدیث 1924
حدیث نمبر: 1924 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، مُجَاهِدٍ ، أَبِي مَعْمَرٍ ، عَلِيٍّ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، قال: كُنَّا عِنْدَ عَلِيٍّ فَمَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامُوا لَهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: أَمْرُ أَبِي مُوسَى , فَقَالَ:" إِنَّمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةِ يَهُودِيَّةٍ وَلَمْ يَعُدْ بَعْدَ ذَلِكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابومعمر کہتے ہیں کہ ہم علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھے (اتنے میں) ایک جنازہ گزرا تو لوگ کھڑے ہو گئے، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: ابوموسیٰ اشعری کا حکم ہے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک یہودی عورت کے جنازے کے لیے کھڑے ہوئے تھے، (پھر) اس کے بعد آپ کبھی کھڑے نہیں ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1924]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10185)، مسند احمد 1/141، 142، 4/413 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، ابن أبى نجيح مدلس وعنعن. وله شاهد ضعيف، عند الحميدي (50 بتحقيقي) وأحمد (1/ 141.142) وغيرهما. وحديث مسلم (962 [2227.2230]) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 371
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (1923) باب پر واپس اگلی حدیث (1925) →