بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 1883 — باب: میت کو گرم پانی سے غسل دینے کا بیان۔
کتب سنن نسائی کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل باب: میت کو گرم پانی سے غسل دینے کا بیان۔ حدیث 1883
حدیث نمبر: 1883 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، اللَّيْثُ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي الْحَسَنِ ، أُمِّ قَيْسٍ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ مَوْلَى أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ، قَالَتْ: تُوُفِّيَ ابْنِي فَجَزِعْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ لِلَّذِي يَغْسِلُهُ: لَا تَغْسِلِ ابْنِي بِالْمَاءِ الْبَارِدِ فَتَقْتُلَهُ، فَانْطَلَقَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِهَا، فَتَبَسَّمَ ثُمَّ قَالَ:" مَا قَالَتْ طَالَ عُمْرُهَا، فَلَا نَعْلَمُ امْرَأَةً عُمِرَتْ مَا عُمِرَتْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرا بیٹا مر گیا، تو میں اس پر رونے لگی اور اس شخص سے جو اسے غسل دے رہا تھا کہا: میرے بیٹے کو ٹھنڈے پانی سے غسل نہ دو کہ اس (مرے کو مزید) مارو، عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس گئے، اور آپ کو ان کی یہ بات بتائی تو آپ مسکرا پڑے، پھر فرمایا: کیا کہا اس نے؟ اس کی عمردراز ہو، (راوی کہتے ہیں) تو ہم نہیں جانتے کہ کسی عورت کو اتنی عمر ملی ہو جتنی انہیں ملی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1883]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18346)، مسند احمد 6/355 (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ”ابو الحسن‘‘ لین الحدیث ہیں)»
وضاحت
۱؎: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعا «طال عمرہا» کی برکت تھی۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، أبو الحسن مولي اُم قيس بنت محصن: مجهول،لم أجد من وثقه وجهله ابن القطان الفاسي. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 336
الحكم: ضعيف الإسناد
← پچھلی حدیث (1882) باب پر واپس اگلی حدیث (1884) →