إِسْحَاقُ ، جَرِيرٌ ، طَلْقُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، طَلْقُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي طَلْقُ بْنُ مُعَاوِيَةَ , وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي جَدِّي طَلْقُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا يَشْتَكِي، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَخَافُ عَلَيْهِ وَقَدْ قَدَّمْتُ ثَلَاثَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اپنا بیٹا لے کر آئی جو بیمار تھا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ڈر رہی ہوں کہ یہ مر نہ جائے، اور (اس سے پہلے) تین بچوں کو بھیج چکی ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے جہنم کی آگ سے بچاؤ کے لیے زبردست ڈھال بنا لیا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1878]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/البر والصلة 47 (2636)، (تحفة الأشراف: 14891)، مسند احمد 2/419، 536 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح