عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، يَحْيَى بْنُ عُمَارَةَ ، أَبَا سَعِيدٍ ، قُتَيْبَةُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُمَارَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ. ح وَأَنْبَأَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے قریب المرگ لوگوں کو «لا إله إلا اللہ» کی تلقین کرو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1827]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الجنائز 1 (916)، سنن ابی داود/الجنائز 20 (3117)، سنن الترمذی/الجنائز 7 (976)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 3 (1445)، مسند احمد 3/3، (تحفة الأشراف: 4403) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: بعض لوگوں کا خیال ہے کہ تلقین سے مراد تذکیر ہے یعنی ان کے پاس پڑھ کر انہیں اس کی یاد ہانی کرائی جائے تاکہ سن کر وہ بھی پڑھنے لگیں، ان سے پڑھنے کے لیے نہ کہا جائے کیونکہ موت کے شدت سے گھبراہٹ میں جھنجھلا کر وہ کہیں اس کلمہ کا انکار نہ کر دے، لیکن البانی صاحب رحمہ اللہ کے نزدیک تلقین کا مطلب یہی ہے کہ اس سے «لا إله إلا الله» پڑھنے کے لیے کہا جائے، تفصیل کے لیے دیکھئیے احکام الجنائز للالبانی۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح