يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قال: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، قالت:" لَقَدْ رَأَيْتُمُونِي مُعْتَرِضَةً بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ غَمَزَ رِجْلِي فَضَمَمْتُهَا إِلَيَّ ثُمَّ يَسْجُدُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ تم لوگوں نے دیکھا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے لیٹی ہوتی اور آپ نماز پڑھتے ہوتے، جب آپ سجدہ کا ارادہ کرتے تو میرے پاؤں کو کچوکے لگاتے، تو میں اسے سمیٹ لیتی، پھر آپ سجدہ کرتے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 167]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الصلاة 108 (519) مطولاً، سنن ابی داود/الصلاة 112 (712)، (تحفة الأشراف: 17537)، مسند احمد 2/44، 54 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح