أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى ، أَبُو نُعَيْمٍ ، الْعَلَاءُ بْنُ زُهَيْرٍ ، وَبَرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ابْنُ عُمَرَ
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قال: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ زُهَيْرٍ، قال: حَدَّثَنَا وَبَرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَزِيدُ فِي السَّفَرِ عَلَى رَكْعَتَيْنِ لَا يُصَلِّي قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا , فَقِيلَ لَهُ: مَا هَذَا؟ قَالَ:" هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
وبرہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہم سفر میں دو رکعت پر اضافہ نہیں کرتے تھے، نہ تو اس سے پہلے نماز پڑھتے اور نہ ہی اس کے بعد، تو ان سے کہا گیا: یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1458]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8556) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: حسن صحيح لغيره