إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةُ ، مُوسَى بْنَ سَلَمَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قال: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ مُوسَى بْنَ سَلَمَةَ حَدَّثَهُمْ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ , قُلْتُ: تَفُوتُنِي الصَّلَاةُ فِي جَمَاعَةٍ وَأَنَا بِالْبَطْحَاءِ مَا تَرَى أَنْ أُصَلِّيَ؟ , قَالَ:" رَكْعَتَيْنِ سُنَّةَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
موسیٰ بن سلمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہم سے پوچھا: میں نے کہا: مجھ سے باجماعت نماز چھوٹ جاتی ہے اور میں بطحاء میں ہوتا ہوں، تو میں کتنی رکعت پڑھوں؟ انہوں نے کہا: دو رکعت پڑھو، ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت (پر عمل کرو)۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1445]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 1444 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح