بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، أَبِي مَعْبَدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" إِنَّمَا كُنْتُ أَعْلَمُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتَّكْبِيرِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز کے ختم ہونے کو تکبیر کے ذریعہ جانتا تھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1336]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأذان 155 (842)، صحیح مسلم/المساجد 23 (583)، سنن ابی داود/الصلاة 191 (1002)، مسند احمد 1/222، (تحفة الأشراف: 6512) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کی اس حدیث اور ثوبان رضی اللہ عنہ کی حدیث (رقم: ۱۳۳۸) کا خلاصہ یہ ہے کہ سلام کے بعد ایک بار زور سے «اللہ اکبر» اور تین بار «استغفراللہ» کہتے، اور یہ تکبیر ۳۳، ۳۳ بار تسبیح تحمید اور تکبیر کے علاوہ ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح