عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ ، ابْنِ بُرَيْدَةَ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ صَلَّى الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ. فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: فَعَلْتَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُهُ، قَالَ: عَمْدًا فَعَلْتُهُ يَا عُمَرُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، تو جب فتح مکہ کا دن آیا تو آپ نے کئی نمازیں ایک ہی وضو سے ادا کیں، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: آپ نے ایسا کام کیا ہے جو آپ نہیں کرتے تھے ۱؎؟ فرمایا: ”عمر! میں نے اسے عمداً (جان بوجھ کر) کیا ہے“ ۲؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 133]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الطہارة 25 (277) مختصراً، سنن ابی داود/فیہ 66 (172) مختصراً، سنن الترمذی/فیہ 45 (61)، سنن ابن ماجہ/فیہ 72 (510)، (تحفة الأشراف: 1928)، مسند احمد 5/350، 351، 358، سنن الدارمی/الطہارة 3 (285) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عام طور سے ایسا نہیں کرتے تھے ورنہ فتح مکہ سے پہلے بھی آپ کا ایسا کرنا ثابت ہے۔ ۲؎: تاکہ میری امت کو یہ معلوم ہو جائے کہ ایک وضو سے کئی نمازیں ادا کرنا درست ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح