بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 1322 — باب: بائیں طرف سلام پھیرنے کی کیفیت کا بیان۔
کتب سنن نسائی کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل باب: بائیں طرف سلام پھیرنے کی کیفیت کا بیان۔ حدیث 1322
حدیث نمبر: 1322 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
قُتَيْبَةُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، لِابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: أَخْبِرْنِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ كَانَتْ؟ قَالَ:" فَذَكَرَ التَّكْبِيرَ قَالَ: يَعْنِي وَذَكَرَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ عَنْ يَمِينِهِ , السَّلَامُ عَلَيْكُمْ عَنْ يَسَارِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
واسع بن حبان کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم سے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز کے بارے میں بتائیے کہ وہ کیسی ہوتی تھی، تو انہوں نے تکبیر کہی، اور اپنی دائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ» کہنے، اور بائیں طرف «السلام عليكم» ۱؎ کہنے کا ذکر کیا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1322]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، أنظر ما قبلہ (حسن صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے یہ بتانا مقصود ہے کہ آپ داہنی جانب والوں کی تکریم لیے داہنی طرف سلام پھیرتے وقت «ورحمۃاللہ» کا اضافہ فرماتے تھے، اور بائیں طرف «السلام عليكم» ہی پر اکتفا کرتے تھے، پچھلی روایت میں بائیں طرف بھی «ورحمۃاللہ» کہنے کا ذکر ہے، اور اسی پر عمل ہے، شاید آپ کبھی کبھی اسے چھوڑ دیتے رہے ہوں۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: حسن صحيح
← پچھلی حدیث (1321) باب پر واپس اگلی حدیث (1323) →