سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ ، عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَبِي ، عَمٍّ
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَمٍّ لَهُ بَدْرِيٍّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ , فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُهُ فِي صَلَاتِهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، ثُمَّ قَالَ لَهُ:" ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" فَرَجَعَ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، ثُمَّ قَالَ:" ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" حَتَّى كَانَ عِنْدَ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ فَقَالَ: وَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ , لَقَدْ جَهِدْتُ وَحَرَصْتُ فَأَرِنِي وَعَلِّمْنِي قَالَ:" إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تُصَلِّيَ فَتَوَضَّأْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَاعِدًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ فَإِذَا أَتْمَمْتَ صَلَاتَكَ عَلَى هَذَا فَقَدْ تَمَّتْ وَمَا انْتَقَصْتَ مِنْ هَذَا , فَإِنَّمَا تَنْتَقِصُهُ مِنْ صَلَاتِكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یحییٰ بن خلاد بن رافع بن مالک انصاری کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے چچا بدری صحابی روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا، اور اس نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر وہ آیا، اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھ رہے تھے، آپ نے سلام کا جواب دیا، پھر اس سے فرمایا: ”واپس جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے“، چنانچہ وہ واپس آیا، اور پھر سے اس نے نماز پڑھی، پھر وہ دوبارہ آیا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کیا، آپ نے اسے جواب دیا، پھر فرمایا: ”واپس جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے“، یہاں تک کہ تیسری یا چوتھی بار میں اس نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ پر کتاب نازل کی ہے، میں اپنی کوشش کر چکا ہوں، اور میری خواہش ہے آپ مجھے (صحیح نماز پڑھنے کا طریقہ) دکھا، اور سکھا دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”جب تم نماز کا ارادہ کرو تو پہلے اچھی طرح وضو کرو پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر تحریمہ کہو پھر قرآت کرو پھر رکوع میں جاؤ اور رکوع میں رہو یہاں تک کہ تمہیں اطمینان ہو جائے، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ تم سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ میں جاؤ اور اطمینان سے سجدہ کرو، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ تم آرام سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کر اور سجدہ میں رہو یہاں تک کہ تمہیں اطمینان ہو جائے، پھر سر اٹھاؤ تو جب تم اپنی نماز کو اس نہج پر پورا کرو گے تو وہ مکمل ہو گی، اور اگر تم نے اس میں سے کچھ کمی کی تو تم اپنی نماز میں کمی کرو گے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1315]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«أنظر حدیث رقم: 668 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح