بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 1289 — باب: ایک اور طرح کی صلاۃ (درود) کا بیان۔
کتب سنن نسائی کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل باب: ایک اور طرح کی صلاۃ (درود) کا بیان۔ حدیث 1289
حدیث نمبر: 1289 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا ، حُسَيْنٌ ، زَائِدَةَ ، سُلَيْمَانَ ، الْحَكَمِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , السَّلَامُ عَلَيْكَ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَكَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكَ , قَالَ:" قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ , وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ" , قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَنَحْنُ نَقُولُ: وَعَلَيْنَا مَعَهُمْ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَهَذَا أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنَ الَّذِي قَبْلَهُ , وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ فِيهِ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ غَيْرَ هَذَا , وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ پر سلام بھیجنے کو ہم جان چکے ہیں مگر آپ پر صلاۃ (درود) کس طرح بھیجیں؟ تو آپ نے فرمایا: کہو «اللہم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وآل إبراهيم إنك حميد مجيد وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وآل إبراهيم إنك حميد مجيد» اے اللہ! تو صلاۃ (درود) بھیج محمد اور آل محمد پر اسی طرح جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر بھیجا ہے، یقیناً تو حمید و مجید یعنی قابل تعریف اور بزرگ ہے، اور برکتیں نازل فرما محمد اور آل محمد پر اسی طرح جیسے تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں، یقیناً تو حمید و مجید یعنی قابل تعریف اور بزرگ ہے۔ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: اور ہم «وعلينا معهم» اور ان لوگوں کے ساتھ ہم پر بھی بھی کہتے تھے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ سند اس سے پہلے والی سے زیادہ قرین صواب ہے (یعنی عمرو کی جگہ حکم کا ہونا) اور ہم قاسم کے علاوہ کسی اور کو نہیں جانتے جس نے عمرو بن مرہ کا ذکر کیا ہو، «واللہ اعلم» ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1289]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ماقبلہ (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اگلی سند میں بھی حکم ہی ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (1288) باب پر واپس اگلی حدیث (1290) →