مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، سَعْدٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سَعْدٍ , قَالَ: مَرَّ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَنَا أَدْعُو بِأَصَابِعِي , فَقَالَ:" أَحِّدْ أَحِّدْ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گزرے، اور میں (تشہد میں) اپنی انگلیوں ۱؎ سے (اشارہ کرتے ہوئے) دعا کر رہا تھا، تو آپ نے فرمایا: ”ایک سے (اشارہ) کرو ایک سے“، اور آپ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1274]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الصلاة 358 (1499)، (تحفة الأشراف: 3850) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس سے پہلے والی روایت میں، دو انگلیوں سے اشارہ کرنے کا ذکر ہے اس لیے اسے اقل جمع یعنی دو پر محمول کیا جائے گا، یا یہ مانا جائے کہ یہ دو الگ الگ واقعات ہیں، واللہ اعلم۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1499) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 331
الحكم: صحيح