قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، مَالِكٍ ، مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ابْنُ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: رَآنِي ابْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَعْبَثُ بِالْحَصَى فِي الصَّلَاةِ , فَلَمَّا انْصَرَفَ نَهَانِي , وَقَالَ: اصْنَعْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ , قُلْتُ: وَكَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ؟ قَالَ: كَانَ" إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ وَقَبَضَ يَعْنِي أَصَابِعَهُ كُلَّهَا وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ , وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہم نے مجھے نماز میں کنکریوں سے کھیلتے دیکھا تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے مجھے منع کیا، اور کہا: اس طرح کیا کرو جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کرتے تھے، میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس طرح کرتے تھے؟ کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز میں بیٹھتے تو اپنی دائیں ہتھیلی اپنی دائیں ران پر رکھتے ۱؎، اور اپنی سبھی انگلیاں سمیٹے رکھتے، اور اپنی اس انگلی سے جو انگوٹھے کے قریب ہے اشارہ کرتے، اور اپنی بائیں ہتھیلی اپنی بائیں ران پر رکھتے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1268]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 1161 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اور ایک روایت میں ہے اپنے داہنے گھٹنے پر۔ ۲؎: اور ایک روایت میں ہے اپنے بائیں گھٹنے پر۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح