مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، مُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهَلٍ ، الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَلْقَمَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهَلٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: صَلَّى عَلْقَمَةُ خَمْسًا , فَقِيلَ لَهُ , فَقَالَ: مَا فَعَلْتُ , قُلْتُ بِرَأْسِي: بَلَى , قَالَ: وَأَنْتَ يَا أَعْوَرُ , فَقُلْتُ: نَعَمْ , فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ حَدَّثَنَا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ صَلَّى خَمْسًا فَوَشْوَشَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ , فَقَالُوا لَهُ: أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ , قَالَ:" لَا فَأَخْبَرُوهُ" فَثَنَى رِجْلَهُ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابراہیم بن سوید کہتے ہیں کہ علقمہ نے پانچ (رکعت) نماز پڑھی، تو ان سے (اس زیادتی کے بارے میں) کہا گیا، تو انہوں نے کہا: میں نے (ایسا) نہیں کیا ہے، تو میں نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا: کیوں نہیں؟ آپ نے ضرور کیا ہے، انہوں نے کہا: اور تم اس کی گواہی دیتے ہو اے اعور! تو میں نے کہا: ہاں (دیتا ہوں) تو انہوں نے دو سجدے کیے، پھر انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانچ (رکعتیں) پڑھیں، تو لوگ ایک دوسرے سے کھسر پھسر کرنے لگے، ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، لوگوں نے آپ کو بتایا (کہ آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں)، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا پاؤں موڑا، اور دو سجدے کیے، پھر فرمایا: ”میں انسان ہی ہوں، میں (بھی) بھول سکتا ہوں جس طرح تم بھولتے ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1257]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/المساجد 19 (572)، سنن ابی داود/الصلاة 196 (1022) مختصراً، مسند احمد 1/438، 448، (تحفة الأشراف: 9409)، ویأتي ہذا الحدیث عند المؤلف برقم: 1259 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح