الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمُجَالِدِيُّ ، الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمُجَالِدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً فَزَادَ فِيهَا أَوْ نَقَصَ فَلَمَّا سَلَّمَ , قُلْنَا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , هَلْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ , قَالَ:" وَمَا ذَاكَ" , فَذَكَرْنَا لَهُ الَّذِي فَعَلَ , فَثَنَى رِجْلَهُ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ , فَقَالَ:" لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ لَأَنْبَأْتُكُمْ بِهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَأَيُّكُمْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ شَيْئًا , فَلْيَتَحَرَّ الَّذِي يَرَى أَنَّهُ صَوَابٌ، ثُمَّ يُسَلِّمْ، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھائی، آپ نے اس میں کچھ بڑھا، یا گھٹا دیا، تو جب آپ نے سلام پھیرا تو ہم نے پوچھا: اللہ کے نبی! کیا نماز کے متعلق کوئی نیا حکم آیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ تو ہم نے آپ سے اس چیز کا ذکر کیا جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا تھا، تو آپ نے اپنا پاؤں موڑا، قبلہ رخ ہوئے، اور سہو کے دو سجدے کیے، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”اگر نماز کے متعلق کوئی نئی چیز ہوتی تو میں تمہیں اس کی خبر دیتا“، پھر فرمایا: ”میں انسان ہی تو ہوں، جیسے تم بھولتے ہو، میں بھی بھولتا ہوں، لہٰذا تم میں سے کسی کو نماز میں کوئی شک ہو جائے تو غور و فکر کرے، اور اس چیز کا قصد کرے جس کو وہ درست سمجھ رہا ہو، پھر وہ سلام پھیرے، پھر سہو کے دو سجدے کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1244]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 1241 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح