مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، أَشْعَثُ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عِمْرَانَ ابْنِ حُصَيْنٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ ابْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى بِهِمْ فَسَهَا فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ کو سہو ہو گیا، تو آپ نے دو سجدے (سہو کے) کیے، پھر سلام پھیرا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1237]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 202 (1039)، سنن الترمذی/فیہ 174 (395)، (تحفة الأشراف: 10885)، مسند احمد 5/110 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ سلام سجدہ سہو سے نکلنے کے لیے تھا، کیونکہ دیگر تمام روایات میں یہ صراحت ہے کہ آپ نے سلام پھیرا، پھر سجدہ سہو کیا (پھر اس کے لیے سلام پھیرا) نماز میں رکعات کی کمی بیشی کے سبب جو سجدہ سہو آپ نے کئے ہیں، وہ سب سلام کے بعد میں ہیں، جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے، ہاں ان سجدوں کے بعد تشہد کے بارے میں تینوں احادیث ضعیف ہیں کما في التعلیقات السلفیۃ۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح