إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، الْحَارِثُ بْنُ شُبَيْلٍ ، أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ:" كَانَ الرَّجُلُ يُكَلِّمُ صَاحِبَهُ فِي الصَّلَاةِ بِالْحَاجَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ سورة البقرة آية 238 , فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں (شروع میں) آدمی نماز میں اپنے ساتھ والے سے ضرورت کی باتیں کر لیا کرتا تھا، یہاں تک کہ آیت کریمہ: «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين» ”محافظت کرو نمازوں کی، اور بیچ والی نماز کی، اور اللہ کے لیے خاموش کھڑے رہو“ نازل ہوئی تو (اس کے بعد سے) ہمیں خاموش رہنے کا حکم دے دیا گیا (البقرہ: ۲۳۸)۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1220]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/العمل فی الصلاة 2 (1200)، تفسیر البقرة 42 (4534)، صحیح مسلم/المساجد 7 (539)، سنن ابی داود/الصلاة 178 (949)، سنن الترمذی/فیہ 181 (405)، تفسیر البقرة (2986)، (تحفة الأشراف: 3661)، مسند احمد 4/368 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح