مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، مُحَمَّدٌ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قالت: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ أَتَى بَعْضَ جَوَارِيهِ فَطَلَبْتُهُ فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ يَقُولُ:" رَبِّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے بستر پر موجود نہیں پایا، میں نے گمان کیا کہ شاید آپ اپنی کسی لونڈی کے پاس چلے گئے ہیں، چنانچہ میں نے آپ کو تلاش کیا، تو کیا دیکھتی ہوں کہ آپ سجدہ میں ہیں اور کہہ رہے ہیں: «رب اغفر لي ما أسررت وما أعلنت» ”اے میرے رب! میرے تمام گناہوں کو جو میں نے چھپے اور کھلے کئے ہیں بخش دے“۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1126]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 17678)، وانظر حدیث رقم: 169 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح