قُتَيْبَةُ ، حَمَّادٌ ، عَمْرٍو ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال:" أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْضَاءٍ وَلَا يَكُفَّ شَعْرَهُ وَلَا ثِيَابَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ آپ سات اعضاء ۱؎ پر سجدہ کریں، اور اپنے بال اور کپڑے نہ سمیٹیں ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1094]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأذان 133 (809، 810)، 137 (815)، 138 (816)، صحیح مسلم/الصلاة 44 (490)، سنن ابی داود/الصلاة 155 (889، 890)، سنن الترمذی/الصلاة 88 (273)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 19 (883)، 67 (1040)، (تحفة الأشراف: 5734)، مسند احمد 1/221، 222، 255، 270، 279، 280، 285، 286، 290، 305، 324، سنن الدارمی/الصلاة 73 (1357)، وأعادہ المؤلف بأرقام: 1114، 1116 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: سات اعضاء سے مراد پیشانی ناک کے ساتھ، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں ہیں، جیسا کہ اگلی حدیث میں اس کی تفسیر آ رہی ہے۔ ۲؎: بالوں کو سمیٹنا یہ ہے کہ سب کو اکٹھا کر کے جوڑا باندھ لے، یا دستار میں رکھ لے، اور کپڑوں کا سمیٹنا یہ ہے کہ سجدے یا رکوع میں جاتے وقت کپڑوں کو اس خیال سے سمیٹے کہ کپڑوں میں گرد نہ لگے۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح