قُتَيْبَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَسَنٍ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَسَنٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَيَبْرُكَ كَمَا يَبْرُكُ الْجَمَلُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی اپنی نماز کا قصد کرتا ہے تو وہ بیٹھتا ہے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے؟“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1091]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الصلاة 141 (840، 841)، سنن الترمذی/الصلاة 85 (269)، (تحفة الأشراف: 13866)، مسند احمد 2/381، سنن الدارمی/الصلاة 74 (1360) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد ”استفھام انکاری“ ہے، یعنی ایسا نہیں کرنا چاہیئے، یعنی اونٹ کے بیٹھنے کی طرح نماز میں نہیں بیٹھنا چاہیئے، اور یہ واضح رہے کہ چوپایوں کے گھٹنے ان کے اگلے دونوں پاؤں میں ہوتے ہیں، اونٹ پہلے اپنے اگلے پاؤں رکھتا ہے یعنی گھٹنے پہلے رکھتا ہے، اور انسان کو نماز میں اونٹ کی طرح بیٹھنے سے منع کیا گیا ہے، اس لیے انسان اونٹ کی مخالفت کرتے ہوئے پہلے اپنے ہاتھ رکھے پھر گھٹنے۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح