عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، أَشْعَثَ ، مُحَمَّدٍ ، عَبِيدَةَ ، عَلِيٍّ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قال:" نَهَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَسِّيِّ وَالْحَرِيرِ وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَأَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: وَأَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قسی ۱؎ اور حریر ۲؎ اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے روکا ہے، اور اس بات سے بھی کہ میں رکوع کی حالت میں قرآن پڑھوں۔ دوسری بار راوی نے «أن أقرأ وأنا راكع» کے بجائے «أن أقرأ راكعا» کہا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1041]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10238، 19001)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5186، 5187، 5188 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: ایک ریشمی کپڑا ہے قس کی طرف منسوب ہے جو ایک جگہ کا نام ہے۔ ۲؎: خالص ریشمی کپڑا۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح