بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: امت محمدیہ کی صفات۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل باب: امت محمدیہ کی صفات۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 11
حدیث نمبر: 4282 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , قَالَ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ , عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ , عَنْ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ سِيمَاءُ أُمَّتِي , لَيْسَ لِأَحَدٍ غَيْرِهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میرے پاس آؤ گے اس حال میں کہ وضو کی وجہ سے تمہارے ہاتھ پاؤں اور پیشانیاں روشن ہوں گی، یہ میری امت کا نشان ہو گا، اور کسی امت کا یہ نشان نہ ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4282]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الطہارة 12 (247)، (تحفة الأشراف: 13399) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4283 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاق ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ , فَقَالَ:" أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟" , قُلْنَا: بَلَى , قَالَ:" أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟" , قُلْنَا: نَعَمْ , قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ , وَذَلِكَ أَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ , وَمَا أَنْتُمْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ , إِلَّا كَالشَّعَرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ , أَوْ كَالشَّعَرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَحْمَرِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک خیمے میں تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس پر راضی اور خوش ہو گے کہ تمہاری تعداد جنت والوں کے چوتھائی ہو، ہم نے کہا: کیوں نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم خوش ہو گے کہ تمہاری تعداد جنت والوں کے ایک تہائی ہو، ہم نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ تمہاری تعداد تمام اہل جنت کا نصف ہو گی، ایسا اس لیے ہے کہ جنت میں صرف مسلمان ہی جائے گا، اور مشرکین کے مقابلے میں تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کالے بیل کی جلد پر سفید بال یا سرخ بیل کی جلد پر کالا بال۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4283]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الرقاق 45 (6526)، صحیح مسلم/الإیمان 95 (221)، سنن الترمذی/صفة الجنة 13 (2547)، (تحفة الأشراف: 9483)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصرالصلاة 24 (88)، مسند احمد (1/386، 437، 445) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4284 سنن ابن ماجہ
أَبُو كُرَيْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ , وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَجِيءُ النَّبِيُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَعَهُ الرجل , يَجِيءُ النَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلَانِ , وَيَجِيءُ النَّبِيُّ وَمَعَهُ الثَّلَاثَةُ , وَأَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ وَأَقَلُّ , فَيُقَالُ لَهُ: هَلْ بَلَّغْتَ قَوْمَكَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ فَيُدْعَى قَوْمُهُ , فَيُقَالُ: هَلْ بَلَّغَكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: لَا , فَيُقَالُ: مَنْ يَشْهَدُ لَكَ؟ فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ , فَتُدْعَى أُمَّةُ مُحَمَّدٍ , فَيُقَالُ: هَلْ بَلَّغَ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ , فَيَقُولُ: وَمَا عِلْمُكُمْ بِذَلِكَ؟ فَيَقُولُونَ: أَخْبَرَنَا نَبِيُّنَا بِذَلِكَ , أَنَّ الرُّسُلَ قَدْ بَلَّغُوا فَصَدَّقْنَاهُ , قَالَ: فَذَلِكُمْ قَوْلُهُ تَعَالَى: وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا سورة البقرة آية 143.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (قیامت کے دن) ایک نبی آئے گا اور اس کے ساتھ دو ہی آدمی ہوں گے، اور ایک نبی آئے گا اس کے ساتھ تین آدمی ہوں گے، اور کسی نبی کے ساتھ زیادہ لوگ ہوں گے، کسی کے ساتھ کم، اس نبی سے پوچھا جائے گا: کیا تم نے اپنی قوم تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا تھا؟ وہ کہے گا: جی ہاں پھر اس کی قوم بلائی جائے گی اور پوچھا جائے گا: کیا اس نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: نہیں نبی سے پوچھا جائے گا: تمہارا گواہ کون ہے؟ وہ کہے گا: محمد اور ان کی امت، پھر محمد کی امت بلائی جائے گی اور کہا جائے گا: کیا اس نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہے گی: جی ہاں اس سے پوچھا جائے گا: تمہیں کیسے معلوم ہوا؟ جواب دے گی کہ ہمارے نبی نے ہم کو یہ بتایا کہ رسولوں نے پیغام پہنچا دیا ہے تو ہم نے ان کی تصدیق کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہی اللہ تعالیٰ کے قول: «وكذلك جعلناكم أمة وسطا لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا» اسی طرح ہم نے تم کو امت وسط بنایا تاکہ تم گواہ رہو لوگوں پر اور رسول گواہ رہیں تمہارے اوپر (سورة البقرة: 143) کا مطلب ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4284]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 3 (3339)، سنن الترمذی/تفسیر القرآن 3 (2961)، (تحفة الأشراف: 4003)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/9، 32، 58) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4285 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، رِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ رِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ , قَالَ: صَدَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِمَا مِنْ عَبْدٍ يُؤْمِنُ ثُمَّ يُسَدِّدُ , إِلَّا سُلِكَ بِهِ فِي الْجَنَّةِ , وَأَرْجُو أَلَّا يَدْخُلُوهَا حَتَّى تَبَوَّءُوا أَنْتُمْ , وَمَنْ صَلَحَ مِنْ ذَرَارِيِّكُمْ مَسَاكِنَ فِي الْجَنَّةِ , وَلَقَدْ وَعَدَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
رفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ لوٹے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، کوئی بندہ ایسا نہیں ہے، جو ایمان لائے، پھر اس پر جما رہے مگر وہ اس کی وجہ سے جنت میں داخل کیا جائے گا، اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ اس میں داخل نہ ہوں گے یہاں تک کہ تم اور تمہاری اولاد میں جو لوگ نیک ہوئے جنت کے مکانات میں ٹھکانا نہ بنا لیں، اور مجھ سے میرے رب نے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو بغیر حساب و کتاب جنت میں داخل کرے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4285]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3611، ومصباح الزجاجة: 1534)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/16) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4286 سنن ابن ماجہ
هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيُّ ، أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيُّ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" وَعَدَنِي رَبِّي سُبْحَانَهُ أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا , لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ , مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا وَثَلَاثُ حَثَيَاتٍ مِنْ حَثَيَاتِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میرے رب (سبحانہ و تعالیٰ) نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا، نہ ان کا حساب ہو گا، اور نہ ان پر کوئی عذاب، ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے، اور ان کے سوا میرے رب عزوجل کی مٹھیوں میں سے تین مٹھیوں کے برابر بھی ہوں گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4286]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/صفة القیامة 12 (2437)، (تحفة الأشراف: 4924)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/268) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4287 سنن ابن ماجہ
عِيسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النَّحَّاسِ الرَّمْلِيُّ ، وَأَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ ، ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، ابْنِ شَوْذَبٍ ، بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النَّحَّاسِ الرَّمْلِيُّ , وَأَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ , عَنْ ابْنِ شَوْذَبٍ , عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نُكْمِلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعِينَ أُمَّةً , نَحْنُ آخِرُهَا وَخَيْرُهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
معاویہ بن حیدۃ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہم قیامت کے دن ستر امتوں کا تکملہ ہوں گے، اور ہم ان سب سے آخری اور بہتر امت ہوں گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4287]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/تفسیر القرآن 4 (3001)، (تحفة الأشراف: 11387)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4474، 5/3، 5)، سنن الدارمی/الرقاق 47 (2802) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 4288 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ ، إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ , عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِنَّكُمْ وَفَّيْتُمْ سَبْعِينَ أُمَّةً , أَنْتُمْ خَيْرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
معاویہ بن حیدۃ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تمہیں لے کر ستر امتیں پوری ہوئیں، اور تم ان میں سب سے بہتر ہو، اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ باعزت ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4288]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ماقبلہ (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 4289 سنن ابن ماجہ
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاق الْجَوْهَرِيُّ ، حُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ، سُفْيَانُ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاق الْجَوْهَرِيُّ , حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ الْأَصْبَهَانِيُّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ , صَفٍّ ثَمَانُونَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ , وَأَرْبَعُونَ مِنْ سَائِرِ الْأُمَمِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جنت والوں کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی، ان میں سے اسی صفیں اس امت کے لوگوں کی ہوں گی، اور چالیس صفیں اور امتوں میں سے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4289]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/صفة الجنة 13 (2546)، (تحفة الأشراف: 1938)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/347، 355، 361) سنن الدارمی/الرقاق 111 (2877) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4290 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، أَبُو سَلَمَةَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ , عَنْ أَبِي نَضْرَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" نَحْنُ آخِرُ الْأُمَمِ وَأَوَّلُ مَنْ يُحَاسَبُ , يُقَالُ: أَيْنَ الْأُمَّةُ الْأُمِّيَّةُ وَنَبِيُّهَا؟ فَنَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہم آخری امت ہیں اور سب سے پہلے حساب کے لیے بلائے جائیں گے، کہا جائے گا: امت اور اس کے نبی کہاں ہیں؟ تو ہم اول بھی ہیں اور آخر بھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4290]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6500، ومصباح الزجاجة: 1535)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/16) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4291 سنن ابن ماجہ
جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الْخَلَائِقَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , أُذِنَ لِأُمَّةِ مُحَمَّدٍ فِي السُّجُودِ فَيَسْجُدُونَ لَهُ طَوِيلًا , ثُمَّ يُقَالُ: ارْفَعُوا رُءُوسَكُمْ قَدْ جَعَلْنَا عِدَّتَكُمْ فِدَاءَكُمْ مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام مخلوق کو جمع کرے گا، تو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امت کو سجدے کا حکم دے گا، وہ بڑی دیر تک اس کو سجدہ کرتے رہیں گے، پھر حکم ہو گا اپنے سروں کو اٹھاؤ ہم نے تمہاری تعداد کے مطابق تمہارے فدئیے جہنم سے کر دئیے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4291]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجة، (تحفة الأشراف: 9111، ومصباح الزجاجة: 1536) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (جبارہ بن المغلس ضعیف اور عبد الاعلی بن ابی المساور متروک راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف جدا وجملة الفداء عند م
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده ضعيف جدًا
جبارة وعبدالأعلى : مجروحان (تقدما:740 ، 87) و حديث مسلم (2767) يُغني عنه ۔
الحكم: ضعيف جدا وجملة الفداء عند م
حدیث نمبر: 4292 سنن ابن ماجہ
جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ , حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ مَرْحُومَةٌ عَذَابُهَا بِأَيْدِيهَا , فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دُفِعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ , فَيُقَالُ: هَذَا فِدَاؤُكَ مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ امت امت مرحومہ ہے (یعنی اس پر رحمت نازل کی گئی ہے)، اس کا عذاب اسی کے ہاتھوں میں ہے، جب قیامت کا دن ہو گا تو ہر مسلمان کے حوالے ایک مشرک کیا جائے گا، اور کہا جائے گا: یہ تیرا فدیہ ہے جہنم سے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4292]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1449، ومصباح الزجاجة: 1537) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں جبارہ و کثیر ضعیف ہیں لیکن صحیح مسلم میں ابو موسیٰ اشعری کی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده ضعيف جدًا
جبارة وكثير بن سليم : مجروحان (تقدما:740 ، 1862) وحديث أبي داود (4278) يغني عنه وإسناده حسن ۔
الحكم: صحيح