بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ورع اور تقویٰ و پرہیزگاری کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل باب: ورع اور تقویٰ و پرہیزگاری کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 4215 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، أَبُو عَقِيلٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، وَعَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ ، عَطِيَّةَ السَّعْدِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ , حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ , وَعَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ , عَنْ عَطِيَّةَ السَّعْدِيِّ , وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَبْلُغُ الْعَبْدُ أَنْ يَكُونَ مِنَ الْمُتَّقِينَ , حَتَّى يَدَعَ مَا لَا بَأْسَ بِهِ حَذَرًا لِمَا بِهِ الْبَأْسُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عطیہ سعدی رضی اللہ عنہ جو (نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بندہ متقیوں کے مقام کو نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ وہ اس بات کو جس میں کوئی مضائقہ نہ ہو، اس چیز سے بچنے کے لیے نہ چھوڑ دے جس میں برائی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4215]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/صفة القیامة 19 (2451)، (تحفة الأشراف: 9902) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ترمذی نے اس کی تحسین فرمائی ہے، اور حافظ نے صحیح الاسناد کہا ہے، سند میں عبداللہ بن یزید مجہول راوی ہیں، جن کی توثیق صرف ابن حبان نے کی ہے، اور ان کی مجہول کی توثیق کو علماء نے قبول نہیں کیا ہے، اس لئے یہ سند ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 4216 سنن ابن ماجہ
هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ، مُغِيثُ بْنُ سُمَيٍّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ , حَدَّثَنَا مُغِيثُ بْنُ سُمَيٍّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" كُلُّ مَخْمُومِ الْقَلْبِ صَدُوقِ اللِّسَانِ" , قَالُوا: صَدُوقُ اللِّسَانِ نَعْرِفُهُ , فَمَا مَخْمُومُ الْقَلْبِ , قَالَ:" هُوَ التَّقِيُّ النَّقِيُّ , لَا إِثْمَ فِيهِ , وَلَا بَغْيَ , وَلَا غِلَّ , وَلَا حَسَدَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر صاف دل، زبان کا سچا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: زبان کے سچے کو تو ہم سمجھتے ہیں، صاف دل کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پرہیزگار صاف دل جس میں کوئی گناہ نہ ہو، نہ بغاوت، نہ کینہ اور نہ حسد۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4216]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8939، ومصباح الزجاجة: 1504) (صحیح)» ‏‏‏‏ (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 570)
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4217 سنن ابن ماجہ
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، أَبِي رَجَاءٍ ، بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ ، مَكْحُولٍ ، وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ أَبِي رَجَاءٍ , عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ , عَنْ مَكْحُولٍ , عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ , كُنْ وَرِعًا تَكُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ , وَكُنْ قَنِعًا تَكُنْ أَشْكَرَ النَّاسِ , وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا , وَأَحْسِنْ جِوَارَ مَنْ جَاوَرَكَ تَكُنْ مُسْلِمًا , وَأَقِلَّ الضَّحِكَ فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكِ تُمِيتُ الْقَلْبَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ابوہریرہ! ورع و تقویٰ والے بن جاؤ، لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار ہو جاؤ گے، قانع بن جاؤ، لوگوں میں سب سے زیادہ شکر کرنے والے ہو جاؤ گے، اور لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو، مومن ہو جاؤ گے، پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرو، مسلمان ہو جاؤ گے، اور کم ہنسا کرو، کیونکہ زیادہ ہنسی دل کو مردہ کر دیتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4217]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14805، ومصباح الزجاجة: 1505)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزہد 2 (2305) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده ضعيف
أبو رجاء محرز بن عبدالله الجزرى مدلس وعنعن (طبقات المدلسين:3/104) وباقى السند ضعيف أيضًا وللحديث شواهد ضعيفة عند الترمذي (2305) وغيره ۔
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4218 سنن ابن ماجہ
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، الْمَاضِي بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَلِيِّ بْنِ سُلَيْمَانَ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , عَنْ الْمَاضِي بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ سُلَيْمَانَ , عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا عَقْلَ كَالتَّدْبِيرِ , وَلَا وَرَعَ كَالْكَفِّ , وَلَا حَسَبَ كَحُسْنِ الْخُلُقِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تدبیر جیسی کوئی عقل نہیں ہے، اور (حرام سے) رک جانے جیسی کوئی پرہیزگاری نہیں ہے، اور اچھے اخلاق سے بڑھ کر کوئی عالیٰ نسبی (حسب و نسب والا ہونا) نہیں ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4218]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11937، ومصباح الزجاجة: 1506) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں قاسم بن محمد اور ماضی بن محمد دونوں راوی ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده ضعيف
الماضي بن محمد الغافقي : ضعيف وشيخه علي بن سليمان : مجهول (تق:6423 ، 4740) وللحديث شواهد ضعيفة جدًا ۔
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 4219 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ ، يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَسَبُ الْمَالُ وَالْكَرَمُ التَّقْوَى".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عالیٰ نسبی (اچھے حسب و نسب والا ہونا) مال ہے، اور کرم (جود و سخا اور فیاضی) تقویٰ ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4219]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/تفسیر القرآن 49 (3271)، (تحفة الأشراف: 4598)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/10) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده ضعيف / ت+3271
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4220 سنن ابن ماجہ
هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ ، أَبِي السَّلِيلِ ضُرَيْبِ بْنِ نُقيْرٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ , عَنْ أَبِي السَّلِيلِ ضُرَيْبِ بْنِ نُقيْرٍ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَأَعْرِفُ كَلِمَةً , وَقَالَ عُثْمَانُ: آيَةً , لَوْ أَخَذَ النَّاسُ كُلُّهُمْ بِهَا لَكَفَتْهُمْ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيَّةُ آيَةٍ؟ قَالَ: وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا سورة الطلاق آية 2.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں، (راوی عثمان بن ابی شیبہ نے کلمہ کی جگہ آیت کہا) اگر تمام لوگ اس کو اختیار کر لیں تو وہ ان کے لیے کافی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اللہ کے رسول! کون سی آیت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: «ومن يتق الله يجعل له مخرجا» اور جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے نجات کا راستہ نکال دے گا (سورۃ الطلاق: ۲ - ۳)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4220]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11925، ومصباح الزجاجة: 1507)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/178، سنن الدارمی/الرقاق 17 (2767) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں انقطاع ہے، کیونکہ ابوالسلیل کی ملاقات ابوذر رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده ضعيف
أعله البوصيري بالإنقطاع لأن أبا السليل أرسل عن أبي ذر رضي الله عنه كما في تهذيب التهذيب (401/4)
الحكم: ضعيف