بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عمل قبول نہ ہونے کا ڈر رکھنے کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل باب: عمل قبول نہ ہونے کا ڈر رکھنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 4198 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيِّ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ سورة المؤمنون آية 60 , أَهُوَ يُضَافُ الرَّجُلُ الَّذِي يَزْنِي وَيَسْرِقُ وَيَشْرَبُ الْخَمْرَ , قَالَ:" لَا , يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ , أَوْ يَا بِنْتَ الصِّدِّيقِ , وَلَكِنَّهُ الرَّجُلُ يَصُومُ وَيَتَصَدَّقُ وَيُصَلِّي , وَهُوَ يَخَافُ أَنْ لَا يُتَقَبَّلَ مِنْهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! «والذين يؤتون ما آتوا وقلوبهم وجلة» (سورة الومنون: 60) سے کیا وہ لوگ مراد ہیں جو زنا کرتے ہیں، چوری کرتے ہیں اور شراب پیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں: ابوبکر کی بیٹی یا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: صدیق کی بیٹی! اس سے مراد وہ شخص ہے جو روزے رکھتا ہے، صدقہ دیتا ہے، اور نماز پڑھتا ہے، اور ڈرتا رہتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو اس کا یہ عمل قبول نہ ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4198]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/تفسیر القرآن 24 (3175)، (تحفة الأشراف: 16301)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/159، 205) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 4199 سنن ابن ماجہ
عُثْمَانُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ عِمْرَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، أَبُو عَبْدِ رَبٍّ ، مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ عِمْرَانَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ , حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ رَبٍّ , قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِنَّمَا الْأَعْمَالُ كَالْوِعَاءِ , إِذَا طَابَ أَسْفَلُهُ طَابَ أَعْلَاهُ , وَإِذَا فَسَدَ أَسْفَلُهُ فَسَدَ أَعْلَاهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اعمال برتن کی طرح ہیں، جب اس میں نیچے اچھا ہو گا تو اوپر بھی اچھا ہو گا، اور جب نیچے خراب ہو گا تو اوپر بھی خراب ہو گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4199]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11458، ومصباح الزجاجة: 1494)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/94) (صحیح) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1734)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: پس جو اعمال خلوص اور صدق دل سے کئے جائیں ان کی تاثیر آدمی پر پڑتی ہے، اور لوگ خواہ مخواہ ایسے شخص کو اچھا سمجھتے ہیں، لیکن جو اعمال ریا کی نیت سے کئے جائیں اس کے کرنے والے پر نور نہیں ہوتا، اور تامل سے اس کا خبیث باطن عاقل آدمی کو ظاہر ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4200 سنن ابن ماجہ
كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ ، بَقِيَّةُ ، وَرْقَاءَ بْنِ عُمَرَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَكْوَانَ أَبُو الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ , حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ , عَنْ وَرْقَاءَ بْنِ عُمَرَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَكْوَانَ أَبُو الزِّنَادِ , عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا صَلَّى فِي الْعَلَانِيَةِ فَأَحْسَنَ , وَصَلَّى فِي السِّرِّ فَأَحْسَنَ , قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: هَذَا عَبْدِي حَقًّا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جب بندہ سب کے سامنے نماز پڑھتا ہے تو اچھی طرح پڑھتا ہے، اور تنہائی میں نماز پڑھتا ہے تو بھی اچھی طرح پڑھتا ہے، (ایسے ہی بندے کے متعلق) اللہ عزوجل فرماتا ہے: یہ حقیقت میں میرا بندہ ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4200]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13936، ومصباح الزجاجة: 1495)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/537) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں بقیہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده ضعيف
بقية عنعن (تقدم:551) وقال أبو حاتم : ” هذا حديث منكر ، يشبه أن يكون من حديث عباد بن كثير “ (علل الحديث 189/1 ،ح+541)
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 4201 سنن ابن ماجہ
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ , وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى , قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَارِبُوا وَسَدِّدُوا , فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ بِمُنْجِيهِ عَمَلُهُ" , قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَلَا أَنَا , إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میانہ روی اختیار کرو، اور سیدھے راستے پر رہو، کیونکہ تم میں سے کسی کو بھی اس کا عمل نجات دلانے والا نہیں ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سوال کیا: اللہ کے رسول! آپ کو بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اور مجھے بھی نہیں! مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت وفضل سے مجھے ڈھانپ لے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4201]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12393، ومصباح الزجاجة: 1496) (صحیح) (سندمیں شریک بن عبداللہ القاضی متفق علیہ ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2602)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: «قاربوا» اور «سددوا» دونوں کے معنی قریب ہی کے ہیں، یعنی عبادت میں اعتدال کرو اور میانہ روی پر مضبوطی سے رہو، جہاں تک خوشی سے ہو سکے عبادت کرو، جب دل اکتا جائے تو عبادت بند کر دو، بعضوں نے کہا: «قاربوا» کا یہ معنی ہے کہ عبادت سے اللہ تعالی کی قربت چاہو، بعضوں نے کہا: کثرت عبادت سے قرب حاصل کرو لیکن صحیح وہی ترجمہ ہے جو اوپر لکھا گیا اور وہی مناسب ہے اس عبادت کے، کسی کو اس کے اعمال نجات نہیں دیں گے، اس حدیث سے فخر اور تکبر کی جڑ کٹ گئی، اگر کوئی عابد اور زہد ہو تو بھی اپنی عبادت پر گھمنڈ نہ کرے، اور گناہگاروں کو ذلیل نہ سمجھے اس لئے کہ نجات فضل اور رحمت الہی پر موقوف ہے، لیکن اس میں شک نہیں کہ اعمال صالحہ اللہ کے فضل و احسان اور اس کی رحمت و رأفت کا قرینہ ہیں، اور ان سے نجات کی امید قوی ہوئی ہے باقی اختیار مالک کو ہے «اللہم اغفرلنا وارحمنا» ۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح