أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، ذِي مِخْمَرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ , عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ , عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ , قَالَ: مَالَ مَكْحُولٌ , وَابْنُ أَبِي زَكَرِيَّا: إِلَى خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ , وَمِلْتُ مَعَهُمَا فَحَدَّثَنَا , عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ , قَالَ: قَالَ لِي جُبَيْرٌ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى، ذِي مِخْمَرٍ , وَكَانَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا , فَسَأَلَهُ عَنِ الْهُدْنَةِ , فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" سَتُصَالِحُكُمْ الرُّومُ صُلْحًا آمِنًا , ثُمَّ تَغْزُونَ أَنْتُمْ وَهُمْ عَدُوًّا , فَتَنْتَصِرُونَ وَتَغْنَمُونَ وَتَسْلَمُونَ , ثُمَّ تَنْصَرِفُونَ حَتَّى تَنْزِلُوا بِمَرْجٍ ذِي تُلُولٍ , فَيَرْفَعُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصَّلِيبِ الصَّلِيبَ , فَيَقُولُ: غَلَبَ الصَّلِيبُ , فَيَغْضَبُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ , فَيَقُومُ إِلَيْهِ فَيَدُقُّهُ , فَعِنْدَ ذَلِكَ تَغْدِرُ الرُّومُ وَيَجْتَمِعُونَ لِلْمَلْحَمَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حسان بن عطیہ کہتے ہیں کہ مکحول اور ابن ابی زکریا، خالد بن معدان کی طرف مڑے، اور میں بھی ان کے ساتھ مڑا، خالد نے جبیر بن نفیر کے واسطہ سے بیان کیا کہ جبیر نے مجھ سے کہا کہ تم ہمارے ساتھ ذی مخمر رضی اللہ عنہ کے پاس چلو، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، چنانچہ میں ان دونوں کے ہمراہ چلا، ان سے صلح کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: عنقریب ہی روم والے تم سے ایک پر امن صلح کریں گے، اور تمہارے ساتھ مل کر دشمن سے لڑیں گے، پھر تم فتح حاصل کرو گے، اور بہت سا مال غنیمت ہاتھ آئے گا، اور تم لوگ سلامتی کے ساتھ جنگ سے لوٹو گے یہاں تک کہ تم ایک تروتازہ اور سرسبز مقام پر جہاں ٹیلے وغیرہ ہوں گے، اترو گے، وہاں صلیب والوں یعنی رومیوں میں سے ایک شخص صلیب بلند کرے گا، اور کہے گا: صلیب غالب آ گئی، مسلمانوں میں سے ایک شخص غصے میں آئے گا، اور اس کے پاس جا کر صلیب توڑ دے گا، اس وقت رومی عہد توڑ دیں گے، اور سب جنگ کے لیے جمع ہو جائیں گے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4089]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3547، ومصباح الزجاجة: 1446)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجہاد 168 (2767)، والملاحم 2 (4293) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح