بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: (قرب قیامت) دابۃ الارض (چوپایہ کے نکلنے) کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل باب: (قرب قیامت) دابۃ الارض (چوپایہ کے نکلنے) کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 4066 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" تَخْرُجُ الدَّابَّةُ وَمَعَهَا خَاتَمُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ , وَعَصَا مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ عَلَيْهِمَا السَّلَام , فَتَجْلُو وَجْهَ الْمُؤْمِنِ بِالْعَصَا , وَتَخْطِمُ أَنْفَ الْكَافِرِ بِالْخَاتِمِ , حَتَّى أَنَّ أَهْلَ الْحِوَاءِ لَيَجْتَمِعُونَ , فَيَقُولُ: هَذَا يَا مُؤْمِنُ , وَيَقُولُ: هَذَا يَا كَافِرُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: زمین سے «دابة» ظاہر ہو گا، اس کے ساتھ سلیمان بن داود علیہما السلام کی انگوٹھی اور موسیٰ بن عمران علیہ السلام کا عصا ہو گا، اس عصا (چھڑی) سے وہ مومن کا چہرہ روشن کر دے گا، اور انگوٹھی سے کافر کی ناک پر نشان لگائے گا، حتیٰ کہ جب ایک محلہ کے لوگ جمع ہوں گے تو یہ کہے گا: اے مومن! اور وہ کہے گا: اے کافر! ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4066]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/تفسیر القرآن 28 (3187)، (تحفة الأشراف: 12202)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/2945، 491، 496) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں علی بن زید ضعیف اور اوس بن خالد مجہول راوی ہیں)
وضاحت
۱؎: یعنی مومن اور کافر نشان کی وجہ سے معلوم ہو جائیں گے تو ہر ایک شخص مومن کو ایمان کا نشان دیکھ کر مومن کے لقب سے پکارے گا اور کافر کو کفر کا نشان دیکھ کر کافر کہہ کر پکارے گا، غرض اس وقت ایمان اور کفر چھپا نہ رہے گا۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3187)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 522
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 4067 سنن ابن ماجہ
أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو زُنَيْجٌ ، أَبُو تُمَيْلَةَ ، خَالِدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو زُنَيْجٌ , حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عُبَيْدٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: ذَهَبَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَوْضِعٍ بِالْبَادِيَةِ قَرِيبٍ مِنْ مَكَّةَ , فَإِذَا أَرْضٌ يَابِسَةٌ حَوْلَهَا رَمْلٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَخْرُجُ الدَّابَّةُ مِنْ هَذَا الْمَوْضِعِ , فَإِذَا فِتْرٌ فِي شِبْرٍ" , قَالَ ابْنُ بُرَيْدَةَ: فَحَجَجْتُ بَعْدَ ذَلِكَ بِسِنِينَ فَأَرَانَا عَصًا لَهُ , فَإِذَا هُوَ بِعَصَايَ هَذِهِ كَذَا وَكَذَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے مکہ کے قریب ایک جگہ صحراء میں لے گئے، تو وہ ایک خشک زمین تھی جس کے اردگرد ریت تھی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جانور ( «دابۃ الارض») یہاں سے نکلے گا، میں نے وہ جگہ دیکھی، وہ ایک بالشت میں سے انگشت شہادت اور انگوٹھے کے درمیان کی دوری کے برابر تھی۔ ابن بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کئی سال کے بعد حج کیا تو بریدہ رضی اللہ عنہ (یعنی میرے والد) نے ہمیں «دابۃ الارض» کا عصا دکھایا جو میرے عصا کے بقدر لمبا اور موٹا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4067]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1974، ومصباح الزجاجة: 1438)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/357) (ضعیف جدّاً)» ‏‏‏‏ (سند میں خالد بن عبید متروک راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
خالد بن عبيد: ’’ متروك الحديث مع إمامته ‘‘ (تقريب: 1654) ومن أجله ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 522
الحكم: ضعيف جدا