مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، أَبُو عَاصِمٍ ، حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، أَبُو صَخْرٍ ، نَافِعٍ ، ابْنَ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ , حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ , حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرٍ , عَنْ نَافِعٍ , أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عُمَرَ , فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا يُقْرِأُ عَليْكَ السَّلَامَ , قَالَ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ , فَإِنْ كَانَ قَدْ أَحْدَثَ فَلَا تُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" يَكُونُ فِي أُمَّتِي أَوْ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ مَسْخٌ وَخَسْفٌ وَقَذْفٌ , وَذَلِكَ فِي أَهْلِ الْقَدَرِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص نے آ کر کہا: فلاں شخص آپ کو سلام کہتا ہے، انہوں نے کہا: مجھے خبر پہنچی ہے کہ اس نے دین میں بدعت نکالی ہے، اگر اس نے ایسا کیا ہو تو اسے میرا سلام نہ کہنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”میری امت میں (یا اس امت میں) مسخ (صورتوں کی تبدیلی)، اور زمین کا دھنسنا آسمان سے پتھروں کی بارش کا ہونا ہو گا“، اور یہ قدریہ میں ہو گا جو تقدیر کے منکر ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4061]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/السنة 7 (4613)، سنن الترمذی/القدر 16 (2152)، تحفة الأشراف: 7651)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/108، 136) (حسن)» (سند میں ابو صخر ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے)
وضاحت
۱؎: جو تقدیر کے منکر ہیں، ان کا نام تقدیر کے انکار کی وجہ سے قدریہ پڑا۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن