بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: (فتنہ کے زمانہ میں) سب سے الگ تھلگ رہنے کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل باب: (فتنہ کے زمانہ میں) سب سے الگ تھلگ رہنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 7
حدیث نمبر: 3977 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي ، بَعَجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ الْجُهَنِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ , أَخْبَرَنِي أَبِي , عَنْ بَعَجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ الْجُهَنِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" خَيْرُ مَعَايِشِ النَّاسِ لَهُمْ , رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , وَيَطِيرُ عَلَى مَتْنِهِ , كُلَّمَا سَمِعَ هَيْعَةً أَوْ فَزْعَةً طَارَ عَلَيْهِ إِلَيْهَا , يَبْتَغِي الْمَوْتَ أَوِ الْقَتْلَ , مَظَانَّهُ , وَرَجُلٌ فِي غُنَيْمَةٍ , فِي رَأْسِ شَعَفَةٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَافِ , أَوْ بَطْنِ وَادٍ مِنْ هَذِهِ الْأَوْدِيَةِ , يُقِيمُ الصَّلَاةَ , وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ , وَيَعْبُدُ رَبَّهُ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْيَقِينُ , لَيْسَ مِنَ النَّاسِ إِلَّا فِي خَيْرٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے اچھی زندگی والا وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے اس کی پشت پر اڑ رہا ہو، اور جہاں دشمن کی آواز سنے یا مقابلے کا وقت آئے تو فوراً مقابلہ کے لیے اس جانب رخ کرتا ہو، اور موت یا قتل کی جگہیں تلاش کرتا پھرتا ہو اور وہ آدمی ہے جو اپنی بکریوں کو لے کر تنہا کسی پہاڑ کی چوٹی پر رہتا ہو، یا کسی وادی میں جا بسے، نماز قائم کرتا ہو، زکاۃ دیتا ہو، اور اپنے رب کی عبادت کرتا ہو حتیٰ کہ اس حالت میں اسے موت آ جائے کہ وہ لوگوں کا خیرخواہ ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3977]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الإمارة 34 (1889)، (تحفة الأشراف: 12224)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/443) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3978 سنن ابن ماجہ
هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، الزَّبِيدِيُّ ، الزُّهْرِيُّ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ , حَدَّثَنَا الزَّبِيدِيُّ , حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" رَجُلٌ مُجَاهِدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ" , قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" ثُمَّ امْرُؤٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ , يَعْبُدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ , وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: لوگوں میں سب سے بہتر اور اچھا کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی جو اپنی جان و مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہو، اس نے پوچھا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ آدمی جو کسی گھاٹی میں تنہا اللہ کی عبادت کرتا ہو، اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھتا ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3978]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الجہاد 2 (2786)، الرقاق 34 (6494)، صحیح مسلم/الإمارة 34 (1888)، سنن ابی داود/الجہاد 5 (2485)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 24 (1660)، سنن النسائی/الجہاد 7 (3107)، (تحفة الأشراف: 4151)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/16، 37، 56، 88) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3979 سنن ابن ماجہ
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ ، حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ , حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ , أَنَّهُ سَمِعَ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَكُونُ دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ , مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , صِفْهُمْ لَنَا , قَالَ:" هُمْ قَوْمٌ مِنْ جِلْدَتِنَا , يَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا" , قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ؟ قَالَ:" فَالْزَمْ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ , فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ , فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا , وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ , وَأَنْتَ كَذَلِكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے پیدا ہوں گے، جو ان کے بلاوے پر ادھر جائے گا وہ انہیں جہنم میں ڈال دیں گے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سے ان کے کچھ اوصاف بتائیے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ ہم ہی میں سے ہوں گے، ہماری زبان بولیں گے، میں نے عرض کیا: اگر یہ وقت آئے تو آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم مسلمانوں کی جماعت اور امام کو لازم پکڑو، اور اگر اس وقت کوئی جماعت اور امام نہ ہو تو ان تمام فرقوں سے علیحدگی اختیار کرو، اگرچہ تمہیں کسی درخت کی جڑ چبانی پڑے حتیٰ کہ تمہیں اسی حالت میں موت آ جائے ا؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3979]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/المناقب 25 (3606)، صحیح مسلم/الإمارة 13 (1827)، (تحفة الأشراف: 3362) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے یعنی جنگل میں جا کر عزلت اور گوشہ نشینی اختیار کرنا اور مرنے تک ایک درخت کی جڑ چوسنے پر قناعت کرنا، اور ان سب فرقوں سے الگ رہنا ایسے فتنہ کے زمانے میں جب نہ تو کوئی مسلمانوں کا امام ہو نہ جماعت ہو بہتر اور باعث نجات ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3980 سنن ابن ماجہ
أَبُو كُرَيْبٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ ، أَبِيهِ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ , أوَ مَوَاقِعَ الْقَطْرِ , يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ اس وقت مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گی جنہیں وہ لے کر پہاڑ کی چوٹیوں یا بارش کے مقامات میں چلا جائے گا، وہ اپنا دین فتنوں سے بچاتا پھر رہا ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3980]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الإیمان 12 (19)، بدء الخلق 15 (3300)، المناقب 25 (3600)، الرقاق 34 (4695)، سنن ابی داود/الفتن 14 (4267)، سنن النسائی/الإیمان 30 (5039)، (تحفة الأشراف: 4103)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستئذان 6 (16) مسند احمد (3/6، 30، 43، 57) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3981 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدِّمِيُّ ، سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ، حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قُرْطٍ ، حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدِّمِيُّ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قُرْطٍ , عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَكُونُ فِتَنٌ عَلَى أَبْوَابِهَا دُعَاةٌ إِلَى النَّارِ , فَأَنْ تَمُوتَ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جِذْلِ شَجَرَةٍ , خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَتْبَعَ أَحَدًا مِنْهُمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کچھ ایسے فتنے پیدا ہوں گے کہ ان کے دروازوں پر جہنم کی طرف بلانے والے ہوں گے، لہٰذا اس وقت تمہارے لیے کسی درخت کی جڑ چبا کر جان دے دینا بہتر ہے، بہ نسبت اس کے کہ تم ان بلانے والوں میں سے کسی کی پیروی کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3981]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: 3372) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3982 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْمِصْرِيُّ ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْمِصْرِيُّ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3982]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأدب 83 (6133)، صحیح مسلم/الزہد 12 (2998)، سنن ابی داود/الأدب 34 (4862)، (تحفة الأشراف: 13205)، وقد أخرجہ: حم2/ (379) سنن الدارمی/الرقاق 65 (2823) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3983 سنن ابن ماجہ
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3983]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6811، ومصباح الزجاجة: 1396)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/115) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: ابوعزہ حجمی نامی شاعرمسلمانوں کی ہجو کرتا تھا، بدر کے موقع پر قیدی ہواا ور آئندہ ہجو نہ کرنے کا عہدکر کے اس نے آزادی حاصل کر لی، مکہ مکرمہ جا کر اس نے دوبارہ مسلمانوں کے خلاف شاعری شروع کر دی پھر وہ غزوہ احد میں دوبارہ قید ہوا، اور اپنی تنگدستی کا بہانہ بنا کر دوبارہ آزادی طلب کی تو اس موقع پر آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح