بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: گھر سے نکلتے وقت کیا دعا پڑھے؟
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: دعا کے فضائل و آداب اور احکام و مسائل باب: گھر سے نکلتے وقت کیا دعا پڑھے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 3884 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، مَنْصُورٍ ، الشَّعْبِيِّ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ مَنْزِلِهِ , قَالَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أَزِلَّ , أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ , أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم إني أعوذ بك أن أضل أو أزل أو أظلم أو أظلم أو أجهل أو يجهل علي» اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں راہ بھٹک جاؤں یا پھسل جاؤں، یا کسی پر ظلم کروں، یا کوئی مجھ پر ظلم کرے، یا میں جہالت کروں، یا کوئی مجھ سے جہالت کرے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3884]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الأدب 112 (5094)، سنن الترمذی/الدعوات 35 (3427)، سنن النسائی/الاستعاذة 29 (5488)، 64 (5541)، (تحفة الأشراف: 18168)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/306، 318، 322) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: 136)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (5094) ترمذي (3427) نسائي (5488)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 515
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3885 سنن ابن ماجہ
يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ , حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ , قَالَ:" بِسْمِ اللَّهِ , لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ , التُّكْلَانُ عَلَى اللَّهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے: «بسم الله لا حول ولا قوة إلا بالله التكلان على الله» اللہ کے نام سے (میں نکل رہا ہوں) گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت، اللہ تعالیٰ کی مدد اور قوت کے بغیر ممکن نہیں، اللہ ہی پر بھروسہ ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3885]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12689، ومصباح الزجاجة: 1359) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (عبد اللہ بن حسین بن عطاء ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
عبداﷲ بن حسين بن عطاء: ضعيف (تقريب: 3275) وضعفه جمھور الأئمة (مجمع الزوائد 243/4)
وللحديث شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 515
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 3886 سنن ابن ماجہ
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، هَارُونُ بْنُ هَارُونَ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ , حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ هَارُونَ , عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِذَا خَرَجَ الرَّجُلُ مِنْ بَابِ بَيْتِهِ أَوْ مِنْ بَابِ دَارِهِ كَانَ مَعَهُ مَلَكَانِ مُوَكَّلَانِ بِهِ , فَإِذَا قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ , قَالَا: هُدِيتَ , وَإِذَا قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ , قَالَا: وُقِيتَ , وَإِذَا قَالَ: تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ , قَالَا: كُفِيتَ , قَالَ: فَيَلْقَاهُ قَرِينَاهُ , فَيَقُولَانِ: مَاذَا تُرِيدَانِ مِنْ رَجُلٍ قَدْ هُدِيَ وَكُفِيَ وَوُقِيَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنے گھر یا اپنے مکان کے دروازے سے باہر نکلتا ہے، تو اس کے ساتھ دو فرشتے مقرر ہوتے ہیں، جب وہ «بسم الله» کہتا ہے تو وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں: تو نے سیدھی راہ اختیار کی، اور جب وہ آدمی «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہتا ہے تو وہ فرشتے کہتے ہیں کہ اب تو ہر آفت سے محفوظ ہے اور جب آدمی «توكلت على الله» کہتا ہے، تو وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں کہ اب تجھے کسی اور کی مدد کی حاجت نہیں، اس کے بعد اس شخص کے دونوں شیطان جو اس کے ساتھ رہتے ہیں وہ اس سے ملتے ہیں تو یہ فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ اب تم اس کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہو جس نے سیدھا راستہ اختیار کیا، تمام آفات و مصائب سے محفوظ ہو گیا، اور اللہ کی مدد کے علاوہ دوسرے کی مدد سے بے نیاز ہو گیا اور ہر ایک آفت و مصیبت سے بچا لیا گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3886]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13972، ومصباح الزجاجة: 1360) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ہارون بن ہارون ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
هارون بن هارون: ضعيف
ولبعض الحديث شواهد ضعيفة عند أبي داود (5095) وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 515
الحكم: ضعيف