بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: تسبیح (سبحان اللہ) کہنے کی فضیلت۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: اسلامی آداب و اخلاق باب: تسبیح (سبحان اللہ) کہنے کی فضیلت۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 3806 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ , عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ , عَنْ أَبِي زُرْعَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ , ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ , حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ , سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دو کلمے زبان پر بہت ہلکے ہیں ۱؎، اور میزان میں بہت بھاری ہیں، اور رحمن کو بہت پسند ہیں (وہ دو کلمے یہ ہیں) «سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم» اللہ (ہر عیب و نقص سے) پاک ہے اور ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، عظیم (عظمت والا) اللہ (ہر عیب و نقص) سے پاک ہے) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3806]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الدعوات 65 (6406)، التوحید 57 (7563)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 10 (2694)، سنن الترمذی/الدعوات 60 (3467)، (تحفة الأشراف: 14899)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/232) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یہ بہت مختصر کلمے ہیں اور ان کا پڑھنا بھی سہل ہے، آدمی کو چاہیے کہ ہر وقت ان کلموں کو پڑھے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3807 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي سِنَانٍ ، عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي سِنَانٍ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَغْرِسُ غَرْسًا , فَقَالَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ , مَا الَّذِي تَغْرِسُ" , قُلْتُ: غِرَاسًا لِي , قَالَ:" أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى غِرَاسٍ خَيْرٍ لَكَ مِنْ هَذَا؟" , قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" قُلْ: سُبْحَانَ اللَّهِ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ , وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَاللَّهُ أَكْبَرُ , يُغْرَسْ لَكَ بِكُلِّ وَاحِدَةٍ شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک دن درخت لگا رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اور فرمایا: ابوہریرہ! تم کیا لگا رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میں درخت لگا رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر درخت نہ بتاؤں؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ آپ ضرور بتلائیے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» کہا کرو، تو ہر ایک کلمہ کے بدلے تمہارے لیے جنت میں ایک درخت لگایا جائے گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3807]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14134، ومصباح الزجاجة: 1332) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس میں چار کلمے ہیں تو ایک بار کہنے سے جنت میں چار درخت لگائے جائیں گے، اسی طرح دو بار کہنے سے آٹھ درخت، امید ہے کہ ہر ایک مومن ان کلموں کو لاکھوں بار پڑھا ہو، اور جنت کے اندر اس کی زمین میں لاکھوں درخت لگائے گئے ہوں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
عيسي بن سنان أبو سنان: ضعيف ضعفه الجمهور وأصل الحديث صحيح بغير السياق
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 513
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3808 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، مِسْعَرٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي رِشْدِينَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، جُوَيْرِيَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ , حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي رِشْدِينَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ جُوَيْرِيَةَ , قَالَتْ: مَرَّ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَلَّى الْغَدَاةَ , أَوْ بَعْدَ مَا صَلَّى الْغَدَاةَ وَهِيَ تَذْكُرُ اللَّهَ , فَرَجَعَ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ , أَوْ قَالَ: انْتَصَفَ وَهِيَ كَذَلِكَ , فَقَالَ:" لَقَدْ قُلْتُ مُنْذُ قُمْتُ عَنْكِ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ , ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , وَهِيَ أَكْثَرُ وَأَرْجَحُ , أَوْ أَوْزَنُ مِمَّا قُلْتِ , سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جویریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صبح (فجر) کے وقت یا صبح کے بعد ان کے پاس سے گزرے، اور وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہی تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت لوٹے جب دن چڑھ آیا، یا انہوں نے کہا: دوپہر ہو گئی اور وہ اسی حال میں تھیں (یعنی ذکر میں مشغول تھیں) تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں جب سے تمہارے پاس سے اٹھا ہوں یہ چار کلمے تین مرتبہ پڑھے ہیں، یہ چاروں کلمے (ثواب میں) زیادہ اور وزن میں بھاری ہیں، اس ذکر سے جو تم نے کئے ہیں، (وہ چار کلمے یہ ہیں) «سبحان الله عدد خلقه سبحان الله رضا نفسه سبحان الله زنة عرشه سبحان الله مداد كلماته» میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں، اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اس کی مرضی کے مطابق، اس کے عرش کے وزن، اور لامحدود کلمے کے برابر اس کی حمد و ثناء بیان کرتا ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3808]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الذکروالدعاء 19 (2726)، (تحفة الأشراف: 15788)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 359 (1503)، سنن الترمذی/الدعوات 104 (3555)، سنن النسائی/االسہو 94 (1353)، مسند احمد (6/325، 429) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3809 سنن ابن ماجہ
أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مُوسَى بْنِ أَبِي عِيسَى الطَّحَّانِ ، عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِيهِ ، أَخِيهِ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ , حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عِيسَى الطَّحَّانِ , عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِيهِ , أَوْ عَنْ أَخِيهِ , عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِمَّا تَذْكُرُونَ مِنْ جَلَالِ اللَّهِ: التَّسْبِيحَ , وَالتَّهْلِيلَ , وَالتَّحْمِيدَ , يَنْعَطِفْنَ حَوْلَ الْعَرْشِ , لَهُنَّ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ , تُذَكِّرُ بِصَاحِبِهَا , أَمَا يُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكُونَ لَهُ , أَوْ لَا يَزَالَ لَهُ مَنْ يُذَكِّرُ بِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا جلال جو تم ذکر کرتے ہو وہ تسبیح ( «سبحان الله»)، تہلیل، «لا إله إلا الله»، اور تحمید، «الحمد لله» ہے، یہ کلمے عرش کے اردگرد گھومتے رہتے ہیں، ان میں شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح آواز ہوتی ہے، اپنے کہنے والے کا ذکر کرتے ہیں (اللہ کے سامنے) کیا تم میں سے کوئی یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کے لیے ایک ایسا شخص ہو جو اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کا برابر ذکر کرتا رہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3809]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11632، ومصباح الزجاجة: 1333)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/268، 271) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: سبحان اللہ،ان کلمات کی کیا فضیلت ہے، گویا یہ اپنے کہنے والے کے لئے شاہد اور مذکر ہیں، اس حدیث سے بھی اللہ تعالی کا استواء عرش کے اوپر ہونا ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3810 سنن ابن ماجہ
إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ ، أُمِّ هَانِئٍ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ , حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ , عَنْ أُمِّ هَانِئٍ , قَالَتْ: أَتَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ , فَإِنِّي قَدْ كَبِرْتُ وَضَعُفْتُ وَبَدُنْتُ , فَقَالَ:" كَبِّرِي اللَّهَ مِائَةَ مَرَّةٍ , وَاحْمَدِي اللَّهَ مِائَةَ مَرَّةٍ , وَسَبِّحِي اللَّهَ مِائَةَ مَرَّةٍ , خَيْرٌ مِنْ مِائَةِ فَرَسٍ مُلْجَمٍ مُسْرَجٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , وَخَيْرٌ مِنْ مِائَةِ بَدَنَةٍ , وَخَيْرٌ مِنْ مِائَةِ رَقَبَةٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی عمل بتلائیے، میں بوڑھی اور ضعیف ہو گئی ہوں، میرا بدن بھاری ہو گیا ہے ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سو بار «اللہ اکبر»، سو بار «الحمدللہ»، سو بار «سبحان اللہ» کہو، یہ ان سو گھوڑوں سے بہتر ہے جو جہاد فی سبیل اللہ میں مع زین و لگام کے کس دیئے جائیں، اور سو جانور قربان کرنے، اور سو غلام آزاد کرنے سے بہتر ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3810]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18013، 18014، ومصباح الزجاجة: 1334)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/344) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں زکریا بن منظور ضعیف اور محمد بن عقبہ مستور ہیں، لیکن دوسرے طرق سے یہ حسن ہے)
وضاحت
۱؎: یعنی اب محنت والی عبادت مجھ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
زكريا بن منظور: ضعيف ومحمد بن عقبة: مستور
وللحديث شواهد ضعيفة عند أحمد (344/6)وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 513
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 3811 سنن ابن ماجہ
أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ , عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ , عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" أَرْبَعٌ أَفْضَلُ الْكَلَامِ لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ: سُبْحَانَ اللَّهِ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ , وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَاللَّهُ أَكْبَرُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: چار کلمے تمام کلمات سے بہتر ہیں اور جس سے بھی تم شروع کرو تمہیں کوئی نقصان نہیں، وہ یہ ہیں «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» اللہ کی ذات پاک ہے، ہر قسم کی حمد و ثناء اللہ ہی کو سزاوار ہے، اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور اللہ بہت بڑا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3811]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الآداب 2 (2137)، (تحفة الأشراف: 4636)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/11، 20) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: چاہے پہلے «سبحان اللہ» کہے، چاہے «الحمد للہ» چاہے «اللہ اکبر» چاہے: «لا إله إلا الله» اگر اس کے بعد یہ بھی ملائے «ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم» تو اور زیادہ ثواب ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3812 سنن ابن ماجہ
نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَشَّاءُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، سُمَيٍّ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَشَّاءُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ , عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ سُمَيٍّ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ , غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ وَلَوْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سو بار «سبحان الله وبحمده» کہے تو اس کے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے، اگرچہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3812]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الدعوات 60 (3466، 3468)، (تحفة الأشراف: 12578)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الدعوات 65 (6405)، مسند احمد (2/302، 375، 515) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3813 سنن ابن ماجہ
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عُمَرَ بْنِ رَاشِدٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ عُمَرَ بْنِ رَاشِدٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكَ بِسُبْحَانَ اللَّهِ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ , وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَاللَّهُ أَكْبَرُ , فَإِنَّهَا يَعْنِي: يَحْطُطْنَ الْخَطَايَا كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» کہنے کو اپنے اوپر لازم کر لو، کیونکہ یہ کلمے گناہوں کو ایسے جھاڑ دیتے ہیں جیسے درخت اپنے (پرانے) پتے جھاڑ دیتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3813]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10972، ومصباح الزجاجة: 1335)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/440) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں عمر بن راشد کی ابن أبی کثیر سے روایت میں اضطراب ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
عمر بن راشد:ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 513
الحكم: ضعيف