مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، الْأَعْمَشِ ، شَقِيقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , وَوَكِيعٌ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ شَقِيقٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً , فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا , فَإِنَّ ذَلِكَ يَحْزُنُهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم تین آدمی ساتھ رہو تو تم میں سے دو آدمی تیسرے کو اکیلا چھوڑ کر باہم کانا پھوسی اور سرگوشی نہ کریں، کیونکہ یہ اسے رنج و غم میں مبتلا کر دے گا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3775]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/السلام 15 (2184)، سنن ابی داود/الأدب 29 (4851)، سنن الترمذی/الأدب 59 (2825)، (تحفة الأشراف: 9253)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاستئذان 47 (6290، 6291)، مسند احمد (1/375، 425، 430، 440، 462، 464، 465، سنن الدارمی/الاستئذان 28 (2699) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی سرگوشی اور کان میں بات کرنا اس کی وجہ یہ ہے کہ تیسرے آدمی کو رنج ہو گا، اور اس کے دل میں وسوسہ پیدا ہو گا کہ معلوم نہیں چپکے چپکے یہ کیا صلاح و مشورہ کرتے ہیں، البتہ اگر مجلس میں تین سے زائد آدمی ہوں تو دو آدمی باہم سرگوشی کر سکتے ہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح