بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: برے اور نا پسندیدہ اشعار کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: اسلامی آداب و اخلاق باب: برے اور نا پسندیدہ اشعار کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 3759 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرٍ ، حَفْصٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا حَفْصٌ , وَأَبُو مُعَاوِيَةَ , وَوَكِيعٌ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ الرَّجُلِ قَيْحًا , حَتَّى يَرِيَهُ خَيْرٌ لَهُ , مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا" , إِلَّا أَنَّ حَفْصًا لَمْ يَقُلْ:" يَرِيَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بیماری کے سبب آدمی کے پیٹ کا مواد سے بھر جانا اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرا ہو ۱؎۔ حفص نے «یریہ» کا لفظ ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3759]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأدب 92 (6155)، صحیح مسلم/الشعر (2257)، سنن الترمذی/الأدب 71 (2851)، (تحفة الأشراف: 12364، 12468، 12523)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/288، 355، 391، 480) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یعنی ایسے اشعار سے جس میں کفر، فسق یا مبالغہ و کذب کے مضامین ہوں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3760 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , حَدَّثَنِي قَتَادَةُ , عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا , حَتَّى يَرِيَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کے پیٹ کا بیماری کے سبب پیپ (مواد) سے بھر جانا زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرا ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3760]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الشعر (2258)، سنن الترمذی/الأدب 71 (2852)، (تحفة الأشراف: 3919)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/175، 177، 181) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3761 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، شَيْبَانَ ، الْأَعْمَشِ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ , عَنْ شَيْبَانَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ , عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ , عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَعْظَمَ النَّاسِ فِرْيَةً لَرَجُلٌ هَاجَى رَجُلًا , فَهَجَا الْقَبِيلَةَ بِأَسْرِهَا , وَرَجُلٌ انْتَفَى مِنْ أَبِيهِ , وَزَنَّى أُمَّهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سب سے بڑا بہتان لگانے والا وہ شخص ہے جو کسی ایک شخص کی ہجو و مذمت کرے، اور وہ اس کی ساری قوم کی ہجو و مذمت کرے، اور وہ شخص جو اپنے باپ کے علاوہ دوسرے کو باپ بنائے، اور اپنی ماں کو زنا کا مرتکب قرار دے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3761]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16329، ومصباح الزجاجة: 1315) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: جب باپ کو چھوڑ کر اپنے کو دوسرے کا بیٹا قرار دیا تو گویا اس نے اپنی ماں پر زنا کی تہمت لگائی۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سليمان الأعمش عنعن
وحديث البخاري (3509) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 511
الحكم: صحيح