بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: حمام میں داخل ہونے کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: اسلامی آداب و اخلاق باب: حمام میں داخل ہونے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 3748 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرٍ ، عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، يَعْلَى ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ الْإِفْرِيقِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَى , وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ جَمِيعًا , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ الْإِفْرِيقِيِّ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تُفْتَحُ لَكُمْ أَرْضُ الْأَعَاجِمِ , وَسَتَجِدُونَ فِيهَا بُيُوتًا يُقَالُ لَهَا: الْحَمَّامَاتُ , فَلَا يَدْخُلْهَا الرِّجَالُ إِلَّا بِإِزَارٍ , وَامْنَعُوا النِّسَاءَ أَنْ يَدْخُلْنَهَا إِلَّا مَرِيضَةً أَوْ نُفَسَاءَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے عجم کے ممالک فتح ہوں گے، تو وہاں تم کچھ ایسے گھر پاؤ گے جنہیں حمامات (عمومی غسل خانے) کہا جاتا ہو گا، تو مرد ان میں بغیر تہہ بند کے داخل نہ ہوں، اور عورتوں کو اس میں جانے سے روکو، سوائے اس عورت کے جو بیمار ہو، یا نفاس والی ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3748]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الحمام 1 (4011)، (تحفة الأشراف: 8877) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں عبدالرحمن بن زیاد اور عبد الرحمن بن رافع دونوں ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4011)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 511
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 3749 سنن ابن ماجہ
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ ، أَبِي عُذْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ , عَنْ أَبِي عُذْرَةَ , قَالَ: وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ مِنَ الْحَمَّامَاتِ , ثُمَّ رَخَّصَ لِلرِّجَالِ أَنْ يَدْخُلُوهَا فِي الْمَيَازِرِ , وَلَمْ يُرَخِّصْ لِلنِّسَاءِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (پہلے) مردوں اور عورتوں دونوں کو حمام میں جانے سے منع کیا تھا، پھر مردوں کو تہبند پہن کر جانے کی اجازت دی، اور عورتوں کو اجازت نہیں دی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3749]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17798، ومصباح الزجاجة: 1310)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحمام 1 (4009)، سنن الترمذی/الأدب43 (2802)، ولم یذکرا: ''ولم يرخص للنساء'' مسند احمد (6/132، 139، 179) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ابوعذرہ مجہول راوی ہیں، ترمذی نے حدیث کو غریب یعنی ضعیف کہا ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 3750 سنن ابن ماجہ
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ , أَنَّ نِسْوَةً مِنْ أَهَلْ حِمْصَ اسْتَأْذَنَّ عَلَى عَائِشَةَ , فَقَالَتْ: لَعَلَّكُنَّ مِنَ اللَّوَاتِي يَدْخُلْنَ الْحَمَّامَاتِ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ وَضَعَتْ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا , فَقَدْ هَتَكَتْ سِتْرَ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوملیح ہذلی سے روایت ہے کہ حمص کی کچھ عورتوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی اجازت طلب کی تو انہوں نے کہا کہ شاید تم ان عورتوں میں سے ہو جو حمام میں جاتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس عورت نے اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ کسی اور جگہ اپنے کپڑے اتارے تو اس نے اس پردہ کو پھاڑ ڈالا جو اس کے اور اللہ کے درمیان ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3750]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الحمام 1 (4010)، سنن الترمذی/الأدب 43 (2803)، (تحفة الأشراف: 17804)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/ 173، 198، سنن الدارمی/الاستئذان 23 (2693) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: حمص: جو ملک شام میں ایک مشہور شہر کا نام ہے۔ یعنی اللہ تعالی نے پاک عورتوں کو تقویٰ پرہیز گاری اور عصمت کا جو پردہ اڑھایا ہے، وہ ایسا کرنے سے پھٹ جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح