بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نا مناسب ناموں کی تبدیلی کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: اسلامی آداب و اخلاق باب: نا مناسب ناموں کی تبدیلی کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 3732 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرٍ ، غُنْدَرٌ ، شُعْبَةَ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَبَا رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَافِعٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ زَيْنَبَ كَانَ اسْمُهَا بَرَّةَ , فَقِيلَ لَهَا تُزَكِّي نَفْسَهَا ," فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں زینب کا نام بّرہ تھا (یعنی نیک بخت اور صالحہ) لوگوں نے اعتراض کیا کہ یہ اپنی تعریف آپ کرتی ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا نام بدل کر زینب رکھ دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3732]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأدب 108 (6192)، صحیح مسلم/الآداب 3 (2141)، (تحفة الأشراف: 14667)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/430، 459)، سنن الدارمی/الاستئذان 62 (2740) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: ام المؤمنین جویریہ رضی اللہ عنہا کا نام بھی پہلے برّہ تھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کانام بدل کر جویریہ رکھا، یہ رسول اکر م صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے اور ہر شخص کو لازم ہے کہ اگر والدین یا خاندان والوں نے جہالت سے بچپن میں کوئی برا نام رکھ دیا ہو تو جب بڑا ہو اور عقل آئے تو وہ نام بدل ڈالے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3733 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرٍ ، الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ ابْنَةً لِعُمَرَ كَانَ يُقَالُ لَهَا: عَاصِيَةُ،" فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيلَةَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کی ایک بیٹی کا نام عاصیہ تھا (یعنی گنہگار، نافرمان) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا نام بدل کر جمیلہ رکھ دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3733]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الآداب 3 (2139)، (تحفة الأشراف: 7876)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب 70 (4952)، سنن الترمذی/الأدب 66 (2838)، سنن الدارمی/الاستئذان62 (2739) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3734 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرٍ ، يَحْيَى بْنُ يَعْلَى أَبُو الْمُحَيَّاةِ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، ابْنُ أَخِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى أَبُو الْمُحَيَّاةِ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ , قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ اسْمِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ ," فَسَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میرا نام اس وقت عبداللہ بن سلام نہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہی میرا نام عبداللہ بن سلام رکھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3734]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5345، ومصباح الزجاجة: 1306)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/35، 5/83، 451) (منکر)» ‏‏‏‏ (سند میں ابن اخی عبد اللہ بن سلام مبہم راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني
منكر ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3256)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 511
الحكم: منكر ضعيف