أَبُو بَكْرٍ ، غُنْدَرٌ ، شُعْبَةَ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَبَا رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَافِعٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ زَيْنَبَ كَانَ اسْمُهَا بَرَّةَ , فَقِيلَ لَهَا تُزَكِّي نَفْسَهَا ," فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ”زینب کا نام بّرہ تھا“ (یعنی نیک بخت اور صالحہ) لوگوں نے اعتراض کیا کہ یہ اپنی تعریف آپ کرتی ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا نام بدل کر زینب رکھ دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3732]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأدب 108 (6192)، صحیح مسلم/الآداب 3 (2141)، (تحفة الأشراف: 14667)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/430، 459)، سنن الدارمی/الاستئذان 62 (2740) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: ام المؤمنین جویریہ رضی اللہ عنہا کا نام بھی پہلے برّہ تھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کانام بدل کر جویریہ رکھا، یہ رسول اکر م صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے اور ہر شخص کو لازم ہے کہ اگر والدین یا خاندان والوں نے جہالت سے بچپن میں کوئی برا نام رکھ دیا ہو تو جب بڑا ہو اور عقل آئے تو وہ نام بدل ڈالے۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح