بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اوندھے منہ لیٹنا منع ہے۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: اسلامی آداب و اخلاق باب: اوندھے منہ لیٹنا منع ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 3723 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَيْسِ بْنِ طِخْفَةَ الْغِفَارِيِّ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ قَيْسِ بْنِ طِخْفَةَ الْغِفَارِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: أَصَابَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ عَلَى بَطْنِي , فَرَكَضَنِي بِرِجْلِهِ، وَقَالَ:" مَا لَكَ وَلِهَذَا النَّوْمِ , هَذِهِ نَوْمَةٌ يَكْرَهُهَا اللَّهُ أَوْ يُبْغِضُهَا اللَّهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
طخفہ غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے مسجد میں پیٹ کے بل (اوندھے منہ) سویا ہوا پایا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے پاؤں سے مجھے ہلا کر فرمایا: تم اس طرح کیوں سو رہے ہو؟ یہ سونا اللہ کو ناپسند ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3723]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الأدب 103 (5040)، (تحفة الأشراف: 4991)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/429) (صحیح) (ملاحظہ ہو: المشکاة: 4718 - 4719 - 4731)» ‏‏‏‏
وضاحت
پیٹ کے بل لیٹنا ممنوع ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3724 سنن ابن ماجہ
يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ، أَبِيهِ ، ابْنِ طِخْفَةَ الْغِفَارِيِّ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ ابْنِ طِخْفَةَ الْغِفَارِيِّ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , قَالَ: مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُضْطَجِعٌ عَلَى بَطْنِي , فَرَكَضَنِي بِرِجْلِهِ , وَقَالَ:" يَا جُنَيْدِبُ , إِنَّمَا هَذِهِ ضِجْعَةُ أَهْلِ النَّارِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس سے گزرے اس حال میں کہ میں پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اپنے پیر سے ہلا کر فرمایا: «جنيدب» ! (یہ ابوذر کا نام ہے) سونے کا یہ انداز تو جہنمیوں کا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3724]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11926، ومصباح الزجاجة: 1303) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں محمد بن نعیم میں کلام ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے)
وضاحت
۱؎: پیٹ کے بل سونے میں جہنمیوں کی مشابہت ہے، قرآن میں ہے: «يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر» (سورة القمر: 48) یعنی اوندھے منہ جہنم میں کھینچے جائیں گے، یہ بھی ایک ممانعت کی وجہ ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3725 سنن ابن ماجہ
يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، سَلَمَةُ بْنُ رَجَاءٍ ، الْوَلِيدِ بْنِ جَمِيلٍ الدِّمَشْقِيِّ ، الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ , حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ رَجَاءٍ , عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ جَمِيلٍ الدِّمَشْقِيِّ , أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ نَائِمٍ فِي الْمَسْجِدِ مُنْبَطِحٍ عَلَى وَجْهِهِ , فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ , وَقَالَ:" قُمْ وَاقْعُدْ , فَإِنَّهَا نَوْمَةٌ جَهَنَّمِيَّةٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس ہوا جو اوندھے منہ مسجد میں سو رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو پیر سے ہلا کر فرمایا: اٹھ کر بیٹھو، اس طرح سونا جہنمیوں کا سونا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3725]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4913، ومصباح الزجاجة: 1304) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں یعقوب، سلمہ اور ولید سب ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: ضعيف