بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: یتیم کے حق کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: اسلامی آداب و اخلاق باب: یتیم کے حق کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 3678 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّجُ حَقَّ الضَّعِيفَيْنِ , الْيَتِيمِ وَالْمَرْأَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں دو کمزوروں ایک یتیم اور ایک عورت کا حق مارنے کو حرام قرار دیتا ہوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3678]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13047، ومصباح الزجاجة: 1281)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/439) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: بیوہ اور یتیم دونوں کا مال کھا جانا اور اس میں الٹ پھیر کرنا سخت گناہ ہے، اگرچہ اور کسی کا مال کھا جانا حرام اور گناہ ہے، مگر ان دونوں کا مال ناجائز طور پر کھانا نہایت سخت گناہ ہے، اس لئے کہ یہ دونوں ناتواں اور کمزور ہیں، روزی کمانے کی ان میں قدرت نہیں ہے، تو ان کو اور دینا چاہیے نہ کہ انہی کا مال لے لینا، بہت بدبخت ہیں وہ لوگ جو یتیم اور بیوہ کا مال ناحق کھا لیں۔
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 3679 سنن ابن ماجہ
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ ، زَيْدِ بْنِ أَبِي عَتَّابٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي عَتَّابٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" خَيْرُ بَيْتٍ فِي الْمُسْلِمِينَ , بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُحْسَنُ إِلَيْهِ , وَشَرُّ بَيْتٍ فِي الْمُسْلِمِينَ , بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُسَاءُ إِلَيْهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں سب سے بہتر گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم (پرورش پاتا) ہو، اور اس کے ساتھ نیک سلوک کیا جاتا ہو، اور سب سے بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3679]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12909، ومصباح الزجاجة: 282) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں یحییٰ بن سلیمان لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
يحيي بن أبي سليمان:ضعيف (د 893) والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 509
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 3680 سنن ابن ماجہ
هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَلْبِيُّ ، إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَلْبِيُّ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيُّ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ عَالَ ثَلَاثَةً مِنَ الْأَيْتَامِ , كَانَ كَمَنْ قَامَ لَيْلَهُ , وَصَامَ نَهَارَهُ , وَغَدَا وَرَاحَ شَاهِرًا سَيْفَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , وَكُنْتُ أَنَا وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ أَخَوَيْنِ كَهَاتَيْنِ أُخْتَانِ" , وَأَلْصَقَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے تین یتیموں کی پرورش کی تو وہ ایسا ہی ہے جیسے وہ رات میں تہجد پڑھتا رہا، دن میں روزے رکھتا رہا، اور صبح و شام تلوار لے کر جہاد کرتا رہا، میں اور وہ شخص جنت میں اس طرح بھائی بھائی ہو کر رہیں گے جیسے یہ دونوں بہنیں ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے درمیانی اور شہادت کی انگلی کو ملایا (اور دکھایا)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3680]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5880، ومصباح الزجاجة: 1283) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں اسماعیل بن ابراہیم مجہول اور حماد کلبی ضعیف راوی ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ إسماعيل بن إبراهيم:مجهول والراوي عنه ضعيف ‘‘ حماد بن عبد الرحمٰن: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 509
الحكم: ضعيف