بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: باپ کو اپنے بچوں خاص کر بیٹیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا چاہئے۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: اسلامی آداب و اخلاق باب: باپ کو اپنے بچوں خاص کر بیٹیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا چاہئے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 7
حدیث نمبر: 3665 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَدِمَ نَاسٌ مِنْ الْأَعْرَابِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا: أَتُقَبِّلُونَ صِبْيَانَكُمْ؟ قَالُوا: نَعَمْ , فَقَالُوا: لَكِنَّا وَاللَّهِ مَا نُقَبِّلُ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَأَمْلِكُ أَنْ كَانَ اللَّهُ قَدْ نَزَعَ مِنْكُمُ الرَّحْمَةَ؟".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کچھ اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور کہا: کیا آپ لوگ اپنے بچوں کا بوسہ لیتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو ان اعرابیوں (خانہ بدوشوں) نے کہا: لیکن ہم تو اللہ کی قسم! (اپنے بچوں کا) بوسہ نہیں لیتے، (یہ سن کر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے کیا اختیار ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں سے رحمت اور شفقت نکال دی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3665]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الفضائل 15 (2317)، (تحفة الأشراف: 16822)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب 17 (5993)، مسند احمد (6/70) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3666 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ ، يَعْلَى الْعَامِرِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ , عَنْ يَعْلَى الْعَامِرِيِّ , أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ الْحَسَنُ , وَالْحُسَيْنُ يَسْعَيَانِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَمَّهُمَا إِلَيْهِ , وَقَالَ:" إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یعلیٰ عامری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حسن اور حسین (رضی اللہ عنہما) دونوں دوڑتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دونوں کو اپنے سینے سے چمٹا لیا، اور فرمایا: یقیناً اولاد بزدلی اور بخیلی کا سبب ہوتی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3666]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11853، ومصباح الزجاجة: 1274)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/172) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یعنی آدمی اولاد کی محبت میں مال خرچ کرنے میں بخل کرتا ہے، اور اولاد کے لئے مال چھوڑ جانا چاہتا ہے، اور جہاد سے سستی کرتا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3667 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ ، أَبِي ، سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ , سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ , عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَفْضَلِ الصَّدَقَةِ؟ ابْنَتُكَ مَرْدُودَةً إِلَيْكَ لَيْسَ لَهَا كَاسِبٌ غَيْرُكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو افضل صدقہ نہ بتا دوں؟ اپنی بیٹی کو صدقہ دو، جو تمہارے پاس آ گئی ہو ۱؎، اور تمہارے علاوہ اس کا کوئی کمانے والا بھی نہ ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3667]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3821، ومصباح الزجاجة: 1275)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/175) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (علی بن رباح کا سماع سراقہ رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے اس لئے سند میں انقطاع ہے)
وضاحت
۱؎: یعنی شوہر کی موت یا طلاق کی وجہ سے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
علته الإنقطاع بين سراقة وعُلَيّ كما صرح به البوصيري وغيره
فالسند منقطع
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 508
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 3668 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، مِسْعَرٍ ، سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْحَسَنِ ، صَعْصَعَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , عَنْ مِسْعَرٍ , أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ صَعْصَعَةَ عَمِّ الْأَحْنَفِ , قَالَ: دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ امْرَأَةٌ مَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا , فَأَعْطَتْهَا ثَلَاثَ تَمَرَاتٍ , فَأَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا تَمْرَةً , ثُمَّ صَدَعَتِ الْبَاقِيَةَ بَيْنَهُمَا , قَالَتْ: فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَتْهُ , فَقَالَ:" مَا عَجَبُكِ , لَقَدْ دَخَلَتْ بِهِ الْجَنَّةَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
احنف کے چچا صعصعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت اپنی دو بیٹیوں کو ساتھ لے کر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آئی، تو انہوں نے اس کو تین کھجوریں دیں، اس عورت نے ایک ایک کھجور دونوں کو دی، اور تیسری کھجور کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کے درمیان تقسیم کر دی، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں تعجب کیوں ہے؟ وہ تو اس کام کی وجہ سے جنت میں داخل ہو گئی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3668]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16157، ومصباح الزجاجة: 1276)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة 10 (1418)، الأدب 18 (5995)، صحیح مسلم/البر والصلة 46 (2629)، سنن الترمذی/البر والصلة 13 (1915)، مسند احمد (6/33، 166) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یعنی اپنے بیٹیوں کو پالنے، ان کو کھلانے پلانے اور اپنے آپ کو بھوکے رہنے سے، وہ جنت کی حقدار ہو گئی، اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب شوہر مر جاتا ہے، اور عورت صاحب اولاد ہوتی ہے تو بیچاری عمر بھر محنت مزدوری کرتی ہے، اور جو ملتا ہے وہ اپنی اولاد کو کھلاتی ہے، اور وہ خود اکثر بھوکی رہتی ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3669 سنن ابن ماجہ
الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ ، أَبَا عُشَانَةَ الْمُعَافِرِيَّ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ , حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُشَانَةَ الْمُعَافِرِيَّ , قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" مَنْ كَانَ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ فَصَبَرَ عَلَيْهِنَّ , وَأَطْعَمَهُنَّ , وَسَقَاهُنَّ , وَكَسَاهُنَّ مِنْ جِدَتِهِ , كُنَّ لَهُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: جس کے پاس تین لڑکیاں ہوں، اور وہ ان کے ہونے پر صبر کرے، ان کو اپنی کمائی سے کھلائے پلائے اور پہنائے، تو وہ اس شخص کے لیے قیامت کے دن جہنم سے آڑ ہوں گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3669]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9921، ومصباح الزجاجة: 1277)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/154) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3670 سنن ابن ماجہ
الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، فِطْرٍ ، أَبِي سَعِيدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ , حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ فِطْرٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ رَجُلٍ تُدْرِكُ لَهُ ابْنَتَانِ , فَيُحْسِنُ إِلَيْهِمَا مَا صَحِبَتَاهُ أَوْ صَحِبَهُمَا , إِلَّا أَدْخَلَتَاهُ الْجَنَّةَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس دو لڑکیاں ہوں اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک (اچھا برتاؤ) کرے جب تک کہ وہ دونوں اس کے ساتھ رہیں، یا وہ ان دونوں کے ساتھ رہے تو وہ دونوں لڑکیاں اسے جنت میں پہنچائیں گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3670]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5681، ومصباح الزجاجة: 1278)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/235، 363) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں ابو سعید ضعیف راوی ہیں، لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: 382)
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 3671 سنن ابن ماجہ
الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ ، عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، سَعِيدُ بْنُ عُمَارَةَ ، الْحَارِثُ بْنُ النُّعْمَانِ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُمَارَةَ , أَخْبَرَنِي الْحَارِثُ بْنُ النُّعْمَانِ , سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" أَكْرِمُوا أَوْلَادَكُمْ , وَأَحْسِنُوا أَدَبَهُمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنی اولاد کے ساتھ حسن سلوک کرو، اور انہیں بہترین ادب سکھاؤ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3671]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 520، ومصباح الزجاجة: 1279) (ضعیف جداً)» ‏‏‏‏ (سند میں حارث بن نعمان منکر الحدیث اور سعید بن عمارہ ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سعيد بن عمارة و الحارث بن النعمان:ضعيفان (تقريب: 2367،ضعيف سنن الترمذي: 2352)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 509
الحكم: ضعيف