بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جس سے تمہارا باپ اچھا سلوک کرتا ہو تم بھی اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: اسلامی آداب و اخلاق باب: جس سے تمہارا باپ اچھا سلوک کرتا ہو تم بھی اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 3664 سنن ابن ماجہ
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، أَسِيدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي أُسَيْدٍ مَالِكِ بْنِ رَبِيعَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ , عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ مَوْلَى بَنِي سَاعِدَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ مَالِكِ بْنِ رَبِيعَةَ , قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَبَقِيَ مِنْ بِرِّ أَبَوَيَّ شَيْءٌ أَبَرُّهُمَا بِهِ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهِمَا , قَالَ:" نَعَمْ , الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا , وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا , وَإِيفَاءٌ بِعُهُودِهِمَا مِنْ بَعْدِ مَوْتِهِمَا , وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا , وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا تُوصَلُ إِلَّا بِهِمَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابواسید مالک بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس موجود تھے، اتنے میں قبیلہ بنی سلمہ کا ایک شخص حاضر ہوا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میرے والدین کی نیکیوں میں سے کوئی نیکی ایسی باقی ہے کہ ان کی وفات کے بعد میں ان کے لیے کر سکوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، ان کے لیے دعا اور استغفار کرنا، اور ان کے انتقال کے بعد ان کے وعدوں کو پورا کرنا، اور ان کے دوستوں کی عزت و تکریم کرنا، اور ان رشتوں کو جوڑنا جن کا تعلق انہیں کی وجہ سے ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3664]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الأدب 129 (5142)، (تحفة الأشراف: 11197)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/497، 498) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں عبد الرحمن بن سلیمان لین (ضعیف)، اور علی بن عبید مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: ضعيف