أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ," عَنِ الْقَزَعِ" , قَالَ: وَمَا الْقَزَعُ؟ قَالَ:" أَنْ يُحْلَقَ مِنْ رَأْسِ الصَّبِيِّ مَكَانٌ , وَيُتْرَكَ مَكَانٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے «قزع» سے منع فرمایا۔ راوی نے کہا: «قزع» کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: بچے کے سر کے بال ایک جگہ کے کاٹ دئیے جائیں، اور دوسری جگہ کے چھوڑ دئیے جائیں، اسے «قزع» کہتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3637]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/اللباس 72 (5920)، صحیح مسلم/اللباس 31 (2120)، سنن ابی داود/الترجل 14 (4193)، سنن النسائی/الزینة 5 (5053)، (تحفة الأشراف: 8243)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/4، 39، 55، 67، 82، 83، 101، 106، 118، 137، 143، 154) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح