أَبُو بَكْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَمْشِي أَحَدُكُمْ فِي نَعْلٍ وَاحِدٍ , وَلَا خُفٍّ وَاحِدٍ , لِيَخْلَعْهُمَا جَمِيعًا , أَوْ لِيَمْشِ فِيهِمَا جَمِيعًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھی شخص ایک جوتا یا ایک موزہ پہن کر نہ چلے، یا تو دونوں جوتے اور موزے اتار دے یا پھر دونوں جوتے اور موزے پہن لے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3617]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13064، ومصباح الزجاجة: 1261)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس40 (5855)، صحیح مسلم/اللباس 19 (2097)، سنن ابی داود/اللباس 44 (4136)، سنن الترمذی/اللباس 34 (1774)، موطا امام مالک/اللباس 7 (14)، مسند احمد (2/245، 253، 314، 424، 443، 477) (حسن صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ حکم ادب کے طور پر ہے اگر کوئی عذر ہو مثلا ایک پاؤں میں پھوڑا یا درد ہو تو جوتا اس میں نہ پہنا جائے، تو بہتر یہ ہے کہ دوسرے پاؤں کا جوتا بھی اتار کر چلے۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: حسن صحيح