بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: آدمی نیا کپڑے پہنے تو کیا دعا پڑھے؟
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: لباس کے متعلق احکام و مسائل باب: آدمی نیا کپڑے پہنے تو کیا دعا پڑھے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 3557 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَصْبَغُ بْنُ زَيْدٍ ، أَبُو الْعَلَاءِ ، أَبِي أُمَامَةَ ، عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ زَيْدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: لَبِسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثَوْبًا جَدِيدًا , فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي , وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي , ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" مَنْ لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا , فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي , وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي , ثُمَّ عَمَدَ إِلَى الثَّوْبِ الَّذِي أَخْلَقَ أَوْ أَلْقَى فَتَصَدَّقَ بِهِ كَانَ فِي كَنَفِ اللَّهِ , وَفِي حِفْظِ اللَّهِ وَفِي سِتْرِ اللَّهِ حَيًّا وَمَيِّتًا" , قَالَهَا ثَلَاثًا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نیا کپڑا پہنا تو یہ دعا پڑھی: «الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي» یعنی: اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ایسا کپڑا پہنایا جس سے میں اپنی ستر پوشی کرتا ہوں، اور اپنی زندگی میں زینت حاصل کرتا ہوں، پھر کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کہتے سنا کہ جو شخص نیا کپڑا پہنے اور یہ دعا پڑھے: «الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي» یعنی اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ایسا کپڑا پہنایا جس سے میں اپنی ستر پوشی کرتا ہوں اور اپنی زندگی میں زینت حاصل کرتا ہوں، پھر وہ اس کپڑے کو جو اس نے اتارا، یا جو پرانا ہو گیا صدقہ کر دے، تو وہ اللہ کی حفظ و امان اور حمایت میں رہے گا، زندگی میں بھی اور موت کے بعد بھی یہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین بار فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3557]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الدعوات 108 (3560)، (تحفة الأشراف: 10467)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/44) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں ا بو العلاء مجہول راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3560)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 505
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 3558 سنن ابن ماجہ
الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عُمَرَ قَمِيصًا أَبْيَضَ , فَقَالَ:" ثَوْبُكَ هَذَا غَسِيلٌ أَمْ جَدِيدٌ" , قَالَ: لَا بَلْ غَسِيلٌ , قَالَ:" الْبَسْ جَدِيدًا , وَعِشْ حَمِيدًا , وَمُتْ شَهِيدًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو ایک سفید قمیص پہنے دیکھا تو پوچھا: تمہارا یہ کپڑا دھویا ہوا ہے یا نیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، یہ دھویا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: «البس جديدا وعش حميدا ومت شهيدا» نیا لباس، قابل تعریف زندگی، اور شہادت کی موت نصیب ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3558]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6950، ومصباح الزجاجة: 1243)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/88) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
الزھري عنعن
وله شاھد ضعيف عند ابن أبي شيبة (8/ 265۔266،10 / 402)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 505
الحكم: صحيح