هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَرَاشِدُ بْنُ سَعِيدٍ الرَّمْلِيُّ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , وَرَاشِدُ بْنُ سَعِيدٍ الرَّمْلِيُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَطَبَّبَ , وَلَمْ يُعْلَمْ مِنْهُ طِبٌّ قَبْلَ ذَلِكَ , فَهُوَ ضَامِنٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص علاج کرنے لگے حالانکہ اس سے پہلے اس کے طبیب ہونے کا کسی کو علم نہیں تھا، تو وہ ضامن (ذمہ دار) ہو گا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3466]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الدیات 25 (4586)، سنن النسائی/القسامة 34 (4834)، (تحفة الأشراف: 8746) (حسن)» (سند میں ابن جریج مدلس راوی ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حسن ہے)
وضاحت
۱؎: اگر جان جاتی رہی تو اس کو آدھی دیت دینی ہو گی، اور جو کوئی عضو بیکار ہو جائے اس کی بھی دیت دینا ہو گی۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4586) نسائي (4834)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502
الحكم: حسن