بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سنا اور سنوت کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: طب کے متعلق احکام و مسائل باب: سنا اور سنوت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 3457 سنن ابن ماجہ
إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ سَرْحٍ الْفِرْيَابِيُّ ، عَمْرُو بْنُ بَكْرٍ السَّكْسَكِيُّ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ، أَبَا أُبَيِّ بْنَ أُمِّ حَرَامٍ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ سَرْحٍ الْفِرْيَابِيُّ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ بَكْرٍ السَّكْسَكِيُّ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُبَيِّ بْنَ أُمِّ حَرَامٍ , وَكَانَ قَدْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَتَيْنِ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" عَلَيْكُمْ بِالسَّنَى وَالسَّنُّوتِ , فَإِنَّ فِيهِمَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ , إِلَّا السَّامَ" , قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ: وَمَا السَّامُ؟ قَالَ:" الْمَوْتُ" , قَالَ عَمْرٌو: قَالَ ابْنُ أَبِي عَبْلَةَ: السَّنُّوتُ: الشِّبِتُّ , وقَالَ آخَرُونَ: بَلْ هُوَ الْعَسَلُ الَّذِي يَكُونُ فِي زِقَاقِ السَّمْنِ , وَهُوَ قَوْلُ الشَّاعِرِ: هُمُ السَّمْنُ بِالسَّنُّوتِ لَا أَلْسَ فِيهِمْ وَهُمْ يَمْنَعُونَ جَارَهُمْ أَنْ يُقَرَّدَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو ابی بن ام حرام رضی اللہ عنہا (وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھ چکے ہیں) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: «تمسنا» اور «سنوت» ۱؎ کا استعمال لازم کر لو، اس لیے کہ «سام» کے سوا ان میں ہر مرض کے لیے شفاء ہے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! «سام» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: موت۔ عمرو کہتے ہیں کہ ابن ابی عبلہ نے کہا: «سنوت»: «سویے» کو کہتے ہیں، بعض دوسرے لوگوں نے کہا ہے کہ وہ شہد ہے جو گھی کی مشکوں میں ہوتا ہے، شاعر کا یہ شعر اسی معنی میں وارد ہے۔ «هم السمن بالسنوت لا ألس فيهم وهم يمنعون جارهم أن يقردا» وہ لوگ ملے ہوئے گھی اور شہد کی طرح ہیں ان میں خیانت نہیں، اور وہ لوگ تو اپنے پڑوسی کو بھی دھوکا دینے سے منع کرتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3457]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11858، ومصباح الزجاجة: 1204) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: «سنا» : ایک مسہل (دست لانے والی) دو ا کا نام ہے، اور «سنوت» : سویا یا بعض لوگوں کے بقول شہد کو کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح