بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: کلونجی کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: طب کے متعلق احکام و مسائل باب: کلونجی کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 3447 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْمِصْرِيَّانِ ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عُقَيْلٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْمِصْرِيَّانِ , قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ عُقَيْلٍ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِنَّ فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ , إِلَّا السَّامَ" , وَالسَّامُ الْمَوْتُ , وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ الشُّونِيزُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: کلونجی میں ہر مرض کا علاج ہے، سوائے «سام» کے، اور «سام» موت ہے، اور کالا دانہ «شونیز» یعنی کلونجی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3447]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الطب 7 (5688)، صحیح مسلم/السلام 29 (2215)، (تحفة الأشراف: 13210)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطب 5 (2041)، مسند احمد (2/423، 6/146) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3448 سنن ابن ماجہ
أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ ، أَبُو عَاصِمٍ ، عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ , حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ , قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ , فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ , إِلَّا السَّامَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اس کالے دانے کا استعمال پابندی سے کرو اس لیے کہ اس میں سوائے موت کے ہر مرض کا علاج ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3448]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6772، ومصباح الزجاجة: 1197) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3449 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، إِسْرَائِيلُ ، مَنْصُورٍ ، خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ ، ابْنُ أَبِي عَتِيقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ , أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ , قَالَ: خَرَجْنَا وَمَعَنَا غَالِبُ بْنُ أَبْجَرَ فَمَرِضَ فِي الطَّرِيقِ , فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ , فَعَادَهُ ابْنُ أَبِي عَتِيقٍ , وَقَالَ لَنَا: عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ , فَخُذُوا مِنْهَا خَمْسًا أَوْ سَبْعًا فَاسْحَقُوهَا , ثُمَّ اقْطُرُوهَا فِي أَنْفِهِ بِقَطَرَاتِ زَيْتٍ فِي هَذَا الْجَانِبِ , وَفِي هَذَا الْجَانِبِ , فَإِنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُمْ , أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِنَّ هَذِهِ الْحَبَّةَ السَّوْدَاءَ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ , إِلَّا أَنْ يَكُونَ السَّامُ" , قُلْتُ: وَمَا السَّامُ؟ قَالَ:" الْمَوْتُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
خالد بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم سفر پر نکلے، ہمارے ساتھ غالب بن ابجر بھی تھے، وہ راستے میں بیمار پڑ گئے، پھر ہم مدینہ آئے، ابھی وہ بیمار ہی تھے، تو ان کی عیادت کے لیے ابن ابی عتیق آئے، اور ہم سے کہا: تم اس کالے دانے کا استعمال اپنے اوپر لازم کر لو، تم اس کے پانچ یا سات دانے لو، انہیں پیس لو پھر زیتون کے تیل میں ملا کر چند قطرے ان کی ناک میں ڈالو، اس نتھنے میں بھی اور اس نتھنے میں بھی، اس لیے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کالے دانے یعنی کلونجی میں ہر مرض کا علاج ہے، سوائے اس کے کہ وہ «سام» ہو، میں نے عرض کیا کہ «سام» کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: موت۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3449]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الطب 7 (5687)، (تحفة الأشراف: 16268)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/138) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح