مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، الْوَلِيدُ ، صَدَقَةَ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ ، خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ , عَنْ صَدَقَةَ أَبِي مُعَاوِيَةَ , عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَبِيذِ جَرٍّ يَنِشُّ , فَقَالَ:" اضْرِبْ بِهَذَا الْحَائِطَ , فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک ایسے گھڑے میں نبیذ لائی گئی جو جوش مار رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے دیوار پر مار دو، اس لیے کہ یہ ایسے لوگوں کا مشروب ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3409]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الأشربة 12 (3716)، سنن النسائی/الأشربة 25 (5613)، 48 (5707)، (تحفة الأشراف: 12297) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبیذ کا استعمال صرف اس وقت تک جائز ہے جب تک کہ اس میں تیزی سے جھاگ نہ اٹھنے لگے اگر اس میں تیزی کے ساتھ جھاگ اٹھنے لگے تو اس کا استعمال جائز نہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح