أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ الدِّمَشْقِيُّ ، مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بيْتٌ لَا تَمْرَ فِيهِ , جِيَاعٌ أَهْلُهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جس گھر میں کھجور نہ ہو وہ گھر والے بھوکے ہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3327]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الأشربة 26 (2046)، سنن ابی داود/الأطعمة 42 (3831)، سنن الترمذی/الأطعمة 17 (1815)، (تحفة الأشراف: 16942)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الأطعمة 26 (2105) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس سے مراد اہل مدینہ اور وہ لوگ ہیں جن کی خوراک کھجور ہو، اس سے مقصود کھجور کی اہمیت بتانا ہے، کیونکہ کھجور ہی عرب کی غالب غذا ہے ہر شخص کے گھر میں رہتی ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
حَدَّ
الحكم: صحيح